لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک/کرائم رپورٹر)پنجاب میں انسداد دہشت گردی فورس کالعدم تنظیموں کے مفرور دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہو گئی،مختلف دہشت گردی کے واقعات میں مطلوب 89 دہشت گرد سالہا سال گزرنے کے باوجود گرفت میں نہ آسکے ،ملزم ریڈ بک میں بھی شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کے بعد جناح اسپتال میں حملہ کرنے والا دہشت گرد سمیع اللہ علاقہ غیر فرار ہو گیا اور 8 سال گزرنے کے باوجود سی ٹی ڈی اسے گرفتار نہیں کر سکی جبکہ محکمہ داخلہ نے اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر کر رکھی ہے ، اسی طرح لاہور سے امریکی شہری ڈاکٹر وارن وائن سٹائن کو اغوا کیا گیا، ان کے اغوا میں ملوث دہشت گرد عمران احمد کے سر کی قیمت بھی 30 لاکھ مقرر ہے اور اس کے باوجود ملزم گرفتار نہ ہو سکا۔لاہور میں ڈی جی خانہ فرہنگ کا قاتل ذکی اللہ بھی مفرور دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور سیشن کورٹ دھماکے میں ملوث قیصر رضا اور سبزہ زار میں قتل ہونے والے مولانا سیف اللہ کا ملزم باقر موسوی بھی مفرورہیں۔ راولپنڈی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے پراسیکیوٹر ذوالفقار علی کے قتل کے مرکزی ملزم تنویر احمد کو بھی ریڈ بک میں شامل کیا گیا ہے جبکہ 2 ڈی ایس پیز کو قتل کرنے والے دہشت گرد محمد صفدر عرف ماما کوبھی 10 سال گزر جانے کے باوجود گرفتار نہیں کیا جا سکا۔انسداد دہشت گردی فورس کے مطابق کالعدم تنظیموں کے 89 دہشت گردوں کو ریڈ بک میں شامل کیا گیا تھا جن میں سے 5 کو گزشتہ برس گرفتار کیا گیا جبکہ بیشتر دہشت گرد افغانستان فرار ہو گئے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق سری لنکن کرکٹ ٹیم اور ڈاکٹر وارن وائن سٹائن کیس میں ملوث دہشت گردوں کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ افغانستان میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے جبکہ باقی دہشت گردوں میں سے کوئی بھی پنجاب میں موجود نہیں ہے