فوج کے شہداء کے لواحقین کیلیے مختص زمین 17 برس بعد ریگولرائز کردی گئی

245

کراچی (پ ر) حکومت سندھ نے پاک فوج کے شہداء کے خاندانوں کیلیے مختص 8500 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ ریگولرائز کرنے کا 17 برس پرانا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ اعلیٰ حکومتی حلقے حکومت سندھ کے اس جذبہ خیر سگالی کو پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کے حوالے سے اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی منظوری سے محکمہ ریونیو سندھ نے ضلع جامشورو کے تھانہ بولا خان کے علاقے کی 8500 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ ریگولرائز کرنے کا آرڈر جاری کردیا ہے۔ کراچی حیدرآباد سپر ہائی وے سے صرف 2 کلومیٹر اندر موجود یہ بارانی زرعی زمین سابق گورنر محمد میاں سومرو نے 25 نومبر 2000ء کو پاک آرمی کے ادارے ملٹری فیملی ری سیٹلمنٹ آرگنائزیشن کو 100 روپے فی ایکڑ قیمت پر گرانٹ کی تھی۔ فوجی ادارے کو یہ زمین ضلع نوابشاہ میں پاک آرمی کے لیے مختص کردہ زرعی زمین کے چوٹیاریوں ڈیم منصوبے میں آجانے کے بدلے میں دی گئی تھی، لیکن 17 برس گزرنے کے باوجود ریونیو ریکارڈ میں زمین متعلقہ فوجی ادارے کے نام پر منتقل نہیں ہوسکی تھی۔



تازہ کیس کی تفصیلات کے مطابق پاک آرمی کے ڈائریکٹر جنرل لینڈ میجر جنرل نوید صفدر کی جانب سے 20 ستمبر 2016ء کو لکھے گئے خط پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 14 دسمبر 2016ء کو محکمہ ریونیو کو یہ مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے خط میں بتایا گیا تھا کہ فوجی ادارے کی جانب سے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود محکمہ ریونیو سندھ کی انتظامیہ نہ زمین کی طے کردہ قیمت وصول کر رہی ہے اور نہ زمین فوجی ادارے کے نام پر منتقل کرنے کے لیے تیار ہے جبکہ فوجی ادارہ اپنے ریکارڈ میں زمین کا بڑا حصہ کئی فوجی مرحومین کے خاندانوں کے نام مختص کرچکا ہے، لیکن زمین کا سرکاری کھاتہ منتقل نہ ہونے کے باعث زمین کو زیر استعمال نہیں لایا جاسکا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست کی گئی کہ طے شدہ قیمت وصول کر کے زمین متعلقہ فوجی ادارے کے نام منتقل کی جائے۔ محکمہ ریونیو نے 13 جولائی 2017ء کو وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کردہ ایک سمری میں بتایا کہ سندھ لینڈ کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر جامشورو کی تازہ رپورٹ کی بنیاد پر مذکورہ زمین کی الاٹمنٹ 15000 روپے فی ایکڑ قیمت پر فوجی ادارے کے نام پر ریگولرائز کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے 11 ستمبر 2017ء کو سمری منظور کر کے عملدرآمد کے لیے چیف سیکرٹری کو بھیج دی جبکہ محکمہ ریونیو نے زمین کی نئی طے کردہ قیمت وصول کرنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل لینڈ پاک آرمی کے نام 12 کروڑ 75 لاکھ روپے کا چالان جاری کر دیا ہے۔