بغاوت صرف حجاب ہی سے کیوں؟

526

بینا حسین لبنیٰ

مغربی ملکوں میں غیر مسلم مائیں اپنی بچیوں کو نام نہاد فطری آزادی سے مانوس کروانے کے لیے بچپن ہی سے ان کی تربیت شروع کر دیتی ہیں اور اس مقصد کے لیے گھروںمیں رہتے ہوئے بچیوں کو مختصر لباس میں رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ بچیوں کو عریانی سے مانوس کروانے کی یہ تربیت وہاں کے کلچر اور ماحول کا تقاضا ہے بصورت دیگر سو سائٹی کی طرف سے بیک ورڈ اورNarrow Minded ہونے کا طعنہ سننے کا خدشہ موجود رہتا ہے ۔ انسانی ذہن پر بچپن کی تربیت کے نقوش بہت گہرے ہو تے ہیں لیکن پھر بھی دیکھیے کہ صرف امریکا ہی کی مختلف ریاستوں میں سالانہ 4 لاکھ خواتین دین اسلام کو قبول کرتی اور پردہ و حجاب اختیارکرتی ہیں ۔ یہاں تک کہ ہالی ووڈ کی سپر اسٹار اداکارائیں بھی دائرہ اسلام میں داخل ہو کر حجاب کی پابندیاں بخوشی قبول کر رہی ہیں اور شوبز کی دنیا سے وابستہ تمام تر مفادات کو پردہ و حجاب پر قربان کر دیتی ہیں ۔ مغربی خواتین کی اس کایا پلٹ کے پیچھے جو طاقتور محرک کار فرما ہے وہ عورت کی فطری حیا ہے جوازل سے اس کے اندر موجود ہے ۔ انسانی فطرت کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ خارجی ماحول فطرت کو وقتی طور پر دبا سکتا ہے مٹا نہیں سکتا ۔ اس لحاظ سے مغربی خواتین کے عقائد و نظریات اور طرزِ زندگی میں یہ انقلاب قابل تعجب نہیں ہے ۔ تعجب تو اس وقت ہوتا ہے جب مشرقی معاشرے کی پر وردہ خواتین پردے و حجاب سے بغاوت کا کھلم کھلا اظہار کریں ۔
کچھ ماہ قبل نواز حکومت کے دور میں وزارت تعلیم کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جو طالبات حجاب پہننے کی پابندی کریں گی ان کے تعلیمی نتائج میں5% مارکس زیادہ دیے جائیں گے ۔ اس اعلان کو سن کر الیکٹرانک میڈیا میں کھلبلی مچ گئی ۔ ٹاک شوز اور خبروں میں اس اعلان کو ہاٹ ایشو بنا لیا گیا اسی طرح کے ایک پروگرام کو فیس بک پر ہائی لائٹ کیا گیا جس کے ایک منظر میں نیوز کاسٹر خاتون حکومتی مشیر سے متعلقہ موضوع پر سوالات کر رہی ہے بلکہ خاتون کے تیور دیکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ سوالات کے ذریعے مشیر پر تابڑ توڑ حملے کر رہی تھی… اس کے لہجے میں اس فیصلے کے خلاف پر زور احتجاج کی تاثیر محسوس ہوتی تھی ، چہرے پر استعجاب آمیز خفگی اور ماتھے کی شکنوں سے ایسا لگتا تھا کہ کوئی انتہائی نا معقول فیصلہ پاکستانی خواتین کے حق میں صادر کر دیا گیا ہے جس پر ، پر زور احتجاج ریکارڈ کروانا مذکورہ خاتون کی اولین ذمے داری ہے ۔ وہ بڑے جوش و ہیجان کی کیفیت میں فرما رہی تھیں کہ پردہ و حجاب کو خواتین پر ’مسلط‘ کرنے کا یہ حکومتی فیصلہ آخر کیوں کیا گیا؟ کیا مجھے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے دوپٹہ پہننا ضروری ہے؟ ابھی حکومتی مشیر ان کی بات کا جواب دینا شروع ہی کرتے ہی ہیںکہ محترمہ ان کی بات کاٹ کر پھر سوال داغ دیتی ہیںکہ ’ دین اسلام تو کسی پر جبرکی تعلیم نہیں دیتا تو پھر حکومت کیسے خواتین، پردے کی پابندی مسلط کر سکتی ہے؟‘ مشیر صاحب حکومتی فیصلے کا پوری طرح دفاع کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ’دیسی میم‘(اینکر پرسن صاحبہ)بڑی بے باکی سے ان کی اس کوشش کو ناکام بنانے پر مصر تھیں۔ 15 منٹ کے اس کلپ میں محترمہ کا پلہ بھاری نظر آیا اور مشیر صاحب کو اپنی بات سنانے کے لیے بار بار یہ کہنا پڑ رہا تھا کہ ’میری بات مکمل ہونے دیں‘ ’آپ میری پوری بات تو سن لیں‘۔
مذہبی موضوعات پر خبروں اور ٹاک شوز میں اینکرز کی طرف سے مہمان اسکالرز پر ایسے تابڑ توڑ حملے اور مہمان اسکالرز کی بے بسی کے مناظر کئی بار دیکھنے کو ملے ہیں لیکن پردہ و حجاب کے خلاف ایک مسلمان عورت کا ایسا بھر پور احتجاج پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ۔ ویسے تو ہماری اینکر پرسن… اور نیوز کاسٹر خواتین کا حلیہ ہی پردہ و حجاب کے خلاف بغاوت کی گواہی دے رہا ہوتا ہے دوپٹے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کندھوں اور سینے پر زلفیں پھیلائے رکھنے کا انداز ہر نیوز کاسٹر کے لیے الیکٹرانک میڈیا نے گویا بطور پالیسی لاگو کر رکھا ہے۔ اگر کبھی دوپٹہ نظر آتا بھی ہے تو ایک پٹی کی شکل میں کندھے کے ایک طرف رکھا ہوا… دکھائی دیتا ہے ۔ نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں آرٹ اینڈ کلچر کے نام پر راگ رنگ کی محفلیں اور بے ڈھنگے لباس میں ناچ گانا اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی وہی عریانی و بے حجابی سوال پیدا کرتی ہے کہ کیا دونوں اداروں نے پردے و حجاب کے خلاف متحد ہو کر محاذ آرائی و بغاوت کا تہیہ کیا ہوا ہے؟
دنیا میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہتا ہے اور آج بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ مرد و زن کے آزادانہ اختلاط پر قد غن لگانے کے لیے پردے و حجاب کی پابندیاں ختم کر دینی چاہییں کیونکہ دونوں فریقین کے مابین صنفی کشش ایک فطری معاملہ ہے ۔ ان کے لیے بھی جواب وہی ہے کہ فطرت کو مٹایا نہیں جا سکتا لیکن کسی نہ کسی ضابطے کے تابع ضرور بنایا جا سکتا ہے۔ جس طرح صنفی کشش ایک فطری معاملہ ہے اسی طرح انسان کے دل میں مال و دولت کی محبت فطری چیز ہے ۔ قرآن حکیم میں ارشادِ خدا وندی کے مفہوم کے مطابق مال کی محبت انسان کی جبلت میں ہے ۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ مال کی محبت جیسے فطری جذبے کو حدود و قیود اور ضابطوں کا پابند بنا کر رکھنے پر… آپ جیسے خواتین و حضرات ، لبرل ازم کے حامی ، انسانی آزادی کے علمبردار… ہوتے ہوئے بھی ،مجبور ہو کر رہ جاتے ہیں ، یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کے لیے اپنے خون پسینے کی کمائی کا کچھ حصہ حکومت وقت کے حوالے کرتے ہوئے کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں کی جاتی… موبائل استعمال کرتے ہوئے بیلنس یا بل کی ادائیگی کرنے کے پابند ہیں آپ… کیوں نہیں موبائل کمپنیوں کے خلاف بغاوت کر دیتے کہ ہمیں اس ضابطے سے آزاد رکھا جائے؟
اگر جواب یہ ہے کہ ان ادائیگیوں اور پابندیوں کے بدلے آپ کو سہولیات بھی تو مل رہی ہیں… تو پردے و حجاب کی پابندی کی موجودگی کی وجہ سے کیا آپ سے نکاح وشادی کی سہولت چھین لی گئی ہے؟ دین اسلام تو بلوغت کے فوراً بعد ہی آپ کو نکاح کے ذریعے فطری صنفی کشش کی تسکین کا سامان مہیا کر رہا ہے اور زوجین کے انتخاب کے لیے پسند و نا پسند کی پوری سہولت بھی دے رہا ہے اور زوجین کی باہم نا موافقت کی صورت میں خلع طلاق یا مفاہمت ، یا پھر تعدد ازواج کا اختیار بھی آپ کو مہیاکرتا ہے ۔
دین اسلام عین دین فطرت ہی تو ہے ۔ اس کا کوئی بھی حکم آپ کی فطری ضروریات و حاجات پر قدغن نہیں لگاتا ہے ۔
اس کے باوجود بھی جو لوگ حکم حجاب کے خلاف تاویلیں گھڑتے ہیں در اصل وہ دنیا کو ایک ایسے دستر خوان کی نظر سے دیکھتے ہیں جس پر مختلف النوع لذتوں کو ان کے سامنے سجا بنا کر رکھا گیا ہے ۔ جس سے آزادانہ استفادے کا انہیں پورا حق حاصل ہے لہٰذا یہ لذتیں ان کے سامنے کھول کھول کر رکھی جائیں تاکہ جہاں ان کا دل چاہے منہ مارا کریں۔
پھر ایک گروہ ایسا بھی ہے جو عورتوں اور مردوں کے درمیان حجابات حائل کرنے اور معاشرے میں ان کے آزادانہ اختلاط پر پابندیاں عائد کرنے کو سیرت و کردار پر حملہ تصور کرتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ پردے و حجاب سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ گویا تمام مرد وزن کو بد چلن اور جنس زدہ تصور کر لیا گیا ہے اور یہ کہ ایسی پابندیاں لگانے والوں کو نہ ہی اپنی عورتوں پر اعتماد ہے نہ مردوں پر…بات بڑی معقول ہے مگر اس طرزِ استدلال کو آگے بڑھایے… ہر قفل جو کسی دروازے پر لگایا جا تا ہے کیا وہ اس بات کا اعلان ہے کہ اس کے مالک نے تمام دنیا کو چور فرض کر لیا ہے؟ اس طرز استدلال کی بنا پر ، پھر تو ہر پولیس مین کا وجود اس بات پر شاہد ہے کہ حکومت اپنی تمام رعایا کو بد معاش سمجھتی ہے ۔
لین دین میں جو دستاویزات لکھوائی جاتی ہیں کیا وہ اس امر کی دلیل ہیں کہ ایک فریق نے دوسرے فریق پر عدم اعتماد کی وجہ سے اس دستاویز کے ذریعے خائن قراردیا ہے؟پھر ہر وہ انسداد تدبیر جو ارتکاب جرائم کی روک تھام کے لیے اختیارکی جاتی ہے اس کی موجودگی کا یہی مطلب لیا جانا چاہیے کہ ان سب لوگوں کی طرف سے جرم کے ارتکاب کا خدشہ ہے جن پر اس احتیاطی تدبیر کا اثر پڑتا ہے ۔ اس طرزِ استدلال کے لحاظ سے تو آپ معاش و معاشرت کے تمام معاملات مین مشتبہ چال چلن کے مرد و عورت قرار دیے جاتے ہیں مگر ان تمام پابندیوں اور احتیاطی تدابیر کی موجودگی آپ کو نا گوار نہیں گزرتی ہے اور آپ کی عزت نفس کو ذرا بھی ٹھیس نہیں لگتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ صرف پردے و حجاب کی پابندی‘ عریانی کی روک تھام اور مرد و زن کے باہم آزادانہ اختلاط پر قدغن لگانے والے قوانین و ضابطوں سے ہی آپ کی عزت نفس مجروح ہونے لگتی ہے اور آپ باغیانہ روش پر اتر آتے ہیں ۔ بغاوت صرف حجاب ہی سے کیوں؟
تہذیب ، معاشرت ، معیشت ، سیاست و حکومت کے تمام ضابطوں سے انکار کیجیے۔ ایک طالب علم جب کسی اسکول میں داخلہ لیتا ہے تو اسکول کے دیگر اخراجات کے ساتھ ہزاروں روپے یونیفارم پر بھی خرچ کیے جاتے ہیں آج تک والدین یا طلبہ نے یہ کہہ کر احتجاج نہیں کیا کہ متعلقہ ادارے کا طالب علم یا طالبہ ہونے کا ثبوت دینے کے لیے یونیفارم پہننا ضروری کیوں ہے؟ ہم اس ادارے کو فیس اورد یگر واجبات ادا کر رہے ہیں کیا ادارے کا طالب علم ہونے کے لیے یہ ثبوت کافی نہیں ہے؟ پھر یونیفارم ہم پرمسلط کیوں کیا جا ر ہا ہے؟
ایک داعی کی حیثیت سے پردے و حجاب کی بات پر اکثر مخاطبین کا رد عمل ماتھے پر شکنوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔ نماز ،روزہ اور انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں وعظ وتلقین تو بہ خوشی سن لی جاتی ہے ۔ وظائف کو زندگی کا معمول بنانے کے لیے بھی رضا مندی ظاہر کر دی جاتی ہے لیکن جب بات لباس اور مخلوط تعلیم پر شرعی ضوابط کے بارے میں کی جائے تو بہت سی خواتین پہلو بدل کر رہ جاتی ہیں ۔ کبھی کبھی تو اس بارے میں جارحانہ اور دفاعی رویہ بھی سامنے آتا ہے اور یہیں پر بس نہیں بعض لوگ تو علما حضرات اور با پردہ خواتین میں ہی عیب نکالنا شروع کر دیتے ہیں ۔ قرآن حکیم سورۃ الملک میں ایسے ہی رویوں کی نشاندہی کرتا ہے اس ضمن کا آیت کا مفہوم یوں ہے کہ جب جہنمیوں سے پوچھا جائے گا کہ آج تم اس حال میں کیوں ہو؟ کیا تمہیں کوئی نصیحت کرنی والانہیں آیا تھا؟ تو جہنمی جواب دیں گے کہ نصیحت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اسے کہا کہ تم تو خود ہی بڑی گمراہی میں ہو یعنی تم خود کون سے نیک پارسا ہو… تم تو خود بھی خراب ہو…پھر تنگ نظری اور انتہا پسندی کا الزام بھی لگایا جاتا ہے اور داعی یا مبلغ کو یہ کہہ کر چپ کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پردہ تو آنکھ کا ہونا چاہیے ظاہری پردوں میں بھی بھلا کیا رکھا ہے ۔ ایک دفعہ ایک معروف اینکر پرسن نے اپنے ایک ٹاک شو میں تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ جن عورتوں کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا پٹہ پڑا ہوا ہو، انہیں ’دوپٹے شوپٹے‘ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
امریکا و برطانیہ میں بسنے والی مسلم خواتین وہاں رہتے ہوئے اسلامک ریسرچ سینٹر قائم کریں ، درسگاہ بنائیں ، قرآن کے نسخے تقسیم کریں یا اسلامی تعلیم و تبلیغ کا کوئی ادارہ قائم کریں تو وہاں یہ سب کچھ ‘ وہاں کے عوام و حکومت طوعاً و کرہاً ہی صحیح‘برداشت کر لیں گے لیکن عوامی مقامات پر وہاںمسلم خواتین چہرہ ڈھانپ کر نہیں چل سکتیں … ان کا نقاب نوچا جاتا ہے… ٹھڈے اور دھکے مارے جاتے ہیں… ان پر نفرت انگیز فقرے کسے جاتے ہیں یہاں تک کہ مروہ الشربینی کو جرمنی میں چھریوں کے وار کر کے شہید کر دیا گیا اور وجہ تنازع صرف حجاب ہی تھا، الحیاء من الایمان کی تعلیمات کی روشنی میں تو حیا و حجاب ایک مومن مرد اور عورت کے ایمان کا جزو لاینفک ہے اس طرح حجاب پر حملہ در اصل ایک مومن عورت کے ایمان پر حملہ ہے ۔
دین اسلام کی تعلیمات کی رو سے پردہ و حجاب ایک احتیاطی تدبیر ہے جس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت کار فرما ہے کہ جس جرم کا ارتکاب حرام ہے اسی جرم کی سرحدوں کے قریب بھی نہ بھٹکو… جس جرم کے کرنے کی آپ کی نیت بھی نہیںہے… مومن عورتیں اس جرم کی طرف دوسروں( نا محرموں) کو ترغیب دلانے والی وضع بھی اختیاط نہ کریں اور مومن مردوں کی نظریں اس جرم کی طرف لے جانیوالے اسباب کو کھوجتی نہ رہیں ۔
سورۃ النور کی تفہیم کے ایک باب میں مولانا مودودی ؒ نے اس حکمت الٰہی کو اس طرح بیان کیا ہے کہ :
’’شریعت الٰہی کسی برائی کو محض حرام کر دینے اور اسے جرم قرار دے کر اس کی سزا مقرر کر دینے پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ ان اسباب کا بھی خاتمہ کر دینے کی فکر کرتی ہے جو کسی شخص کو اس برائی میں مبتلا ہو جانے پر اکساتے ہوں یا اس کے لیے مواقع بہم پہنچاتے ہوں یا اس کے کرنے پر مجبور کر دیتے ہوں ، نیز شریعت جرم کے ساتھ اسباب جرم ، محرکات جرم اور رسائل و ذرائع جرم پربھی پابندی لگاتی ہے تاکہ آدمی کو اصل جرم کی سرحد پر پہنچنے سے پہلے کافی فاصلے پر ہی روک دیا جائے ۔ وہ اسے پسند نہیں کرتی کہ لوگ ہر وقت جرم کی سرحدوں پر ٹہلتے رہیں اور روز پکڑے جائیں اور سزا پایا کریں ، وہ صرف محتسب ہی نہیںبلکہ ہمدرد، مصلح اور مدد گار بھی ہے ۔