پر شکنیں کتنی بڑھ گئی ہیں 

826

Abasبھولنے کو وقت اور بھلانے کو فاصلہ بہت معاون ہوتے ہیں۔ خیال نہ کرو تو اکثر باتوں اور یادوں کو یہی وقت اور فاصلے مٹی کی تہ بن کر چھپا لیتے ہیں۔ مگر ایک سچ، اس سے مختلف بھی ہوتا ہے، دوسروں کے سامنے کسی کو بھولنے کا ناٹک کیا جا سکتا ہے۔ خود اسے بھی بتایا جا سکتا ہے کہ تیری دوری کے باعث تیرے نام کا ہر دیا بجھا دیا ہے مگر کوئی اپنے دل کا کیا کرے۔ وہاں اُداسی، محبت اور آنسو کسی کے نام سے وابستہ ہوجائیں تو کبھی کم نہیں پڑتے۔ مظہر کئی سال بعد کینیڈا سے واپس آیا ہے۔ ہم بہت دیر تک ایک دوسرے کے گلے لگے اپنی آنکھوں کو نم ہونے سے روکنے کے لیے، بے وجہ ہنستے رہے۔ ایک دوسرے کی کمر پہ ہولے ہولے مکے مارتے رہے۔ اب اس کی ناک پہ عینک کا مستقل نشان نہیں رہا۔ براؤن لینز کے ساتھ اس کی آنکھیں کچھ اور روشن ہوگئی تھیں۔ مگر یہ اضافی روشنی لینز کی بہرحال نہیں تھی۔
وہ بتا رہا تھا: ’’وہاں اکثر لوگ بہت اچھے ہیں‘‘۔ ’’اچھے لوگ تو کہیں بھی کم نہیں‘‘ ۔میں نے خلاف عادت لقمہ دیا۔
’’اوں ہوں! تم سمجھے نہیں، ان کے چھوٹے تو کیا بڑے بھی دوسروں کو نہیں گھورتے اور تو اور وہاں جا کر پاکستانی بھی یہ عادت چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘
ایک لمحے کا سکوت ہوا اور ہم دونوں قہقہہ لگا کر ہنس دیے۔ بات ہی کچھ ایسی تھی۔ جن دنوں میں فیروز سنز میں تھا، ایک صبح مال روڈ پر واقع شوروم پہنچا تو وہاں سروس روڈ پر بہت جم گھٹا دیکھا۔ آفس کے باہر اپنے پسندیدہ کاوا ساکی جی ٹی او کو بڑے پریم کے ساتھ پارک کیا اور ہجوم کی طرف بڑھ گیا۔ تین چار لڑکیاں تھیں اور چھ سات لڑکے، بغیر بازو کے شرٹیں پہنے، جینز کی نیکروں اور لمبے لمبے بھاری تھیلوں کے باعث، وہ الگ ہی سے پہچانے جا رہے تھے۔ ہر کوئی ان پر تبصرے کر رہا تھا۔ ان کو گھور رہا تھا۔ ایک دو لڑکوں نے تو لڑکیوں کو چُھو تک لیا۔ ناگواری اور ناپسندیدگی کا احساس، ان کے پورے وجود پہ رینگ رہا تھا۔ جانے مجھے کیا سوجھی، ان کو متوجہ کیا اور شوروم کے اندر لے گیا۔ الطاف صاحب مارکیٹنگ مینیجر تھے ان کی سیٹ خالی پڑی تھی، وہاں لے جا کر پہلے پانی کا پوچھا، پھر سب کی طرف سے معذرت کی اور بڑے ادب سے پوچھا کہ میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں۔ ان میں سے ایک لڑکی نے مجھے گھورتے ہوئے پوچھا: ’’پہلے تو یہ بتاؤ کہ تم لوگوں نے کبھی لڑکیاں نہیں دیکھیں؟ ا س قدر بدتمیزی سے ہر جگہ گھورا جاتا ہے کہ مت پوچھو۔‘‘



اس کا سوال اور لہجہ مجھے بہت چبھا اور میں نے ایک سچے پاکستانی کی طرح سوچا کہ ان کے لباس اور اطوار پر بے نقط سناؤں اور منہ توڑ جواب دوں مگر پھر شوروم کے باہر کا وہ منظر اور شرمندگی مجھ پہ غالب آگئی جو میرے اپنے لوگوں نے مجھے عطا کی تھی۔ کچھ عادتیں ان طیاروں جیسی ہوتی ہیں جو قومی وقار اور احترام کے ورلڈ ٹاوروں سے یوں ٹکراتی اور انہیں دوسروں کی نگاہوں میں ایسے زمین بوس کر جاتی ہیں کہ ملبہ اٹھانے میں برسوں بیت جاتے ہیں۔ ہمارے اکثر لوگوں کو یہی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ اور یہاں سے واپس جانے والے یہی باتیں لکھ دیتے ہیں۔اسی شام مظہر سے بات ہوئی تو ہنس دیا۔ بولا۔۔۔ ’’بس یار تم بھی۔۔۔ آج یہ کارنامہ انجام دینے والوں میں، لمحہ بھر کے لیے تو میں بھی شامل تھا۔ وہ تو ماسٹر صاحب کی یاد ایسی آئی کہ میری تو ہچکی نکل گئی۔ اور میں وہاں سے چلا آیا۔
یہ اسکول کے آخری دنوں کا ذکر ہے، ہمارے ماسٹر شفیع صاحب کے بیٹے کی شادی تھی۔ کلاس کے آٹھ دس لڑکوں کو انہوں نے گھر پہ بلالیا۔ کام بھی ہوتے رہے اور شادی میں شرکت بھی ہوگئی۔ ولیمہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا، مہمان سب بیٹھ چکے تھے۔ تین چار لڑکے پانی پلاتے پھر رہے تھے، ہر طرف خوش باش و خوش لباس، خوش گفتار، خوش ادا، مہمانوں کا ہجوم تھا۔ خوشبوئیں تھیں کہ ٹکنے کو راہ نہ پاتی تھیں۔ یہاں وہاں اڑی پھرتی تھیں۔ مظہر کی نگاہیں بھی ان کے پیچھے پیچھے متحرک تھیں مجھ سے برداشت نہ ہو سکا تو میں نے مظہر کا سر پکڑ کر گھما ہی دیا۔
’’بابا دنیا میں دیکھنے کو اور بھی بہت کچھ ہے‘‘ وہ اس وقت خاموش رہا اور دوبارہ کام میں لگ گیا۔ ہاں اگلے روز جب کلاس شروع ہوئی اور ماسٹر شفیع محمد صاحب نے ایک کتاب کھول کر پڑھنا شروع کر دیا۔ بس وہ لفظ کیا تھے۔ حساب کتاب والے فرشتوں کی گرزیں تھیں۔ جس جس کو پڑیں، لرز کے رہ گیا۔ انہوں نے پہلے امام جعفر صادق کا بتایا کہ انہوں نے اپنے والد امام باقر سے اور انہوں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کی کہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرمؐ کے چچازاد بھائی فضل بن عباسؓ (جو اس وقت نوجوان لڑکے تھے) مشعر حرام سے واپسی کے وقت نبی کریمؐ کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے۔ راستے میں جب عورتیں گزرنے لگیں تو فضل ان کی طرف دیکھنے لگے۔ نبی مہربانؐ نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسے دوسری طرف پھیر دیا۔ (ابوداؤد) اسی حجۃُ الوداع کے موقع پر ایک عورت نے اللہ کے رسول کا راستہ روک کر حج کے متعلق ایک مسئلہ پوچھنے لگیں۔ فضل بن عباس نے اس پر نظریں گاڑ دیں آپؐ نے ان کا منہ پکڑ کر دوسری طرف کر دیا۔ (ترمذی، ابوداؤد، بخاری)



ماسٹر شفیع صاحب نے اچانک ہم سے پوچھا ’’کیوں بھئی وہ قل للمومنین یغضو والی آیت کسی کو آتی ہے۔‘‘ مظہر نے پہلے ہاتھ کھڑا کیا، پھر کھڑے ہو کر فرفر آیت سنا دی۔ ترجمہ تھا: ’’اے نبی مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں۔ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں، اللہ اس سے باخبر رہتا ہے۔‘‘ ساری کلاس کوسانپ سونگھ گیا۔ دم سادھے سبھی بیٹھے تھے۔ ماسٹر صاحب اٹھے انہوں نے چاک اٹھایا اور بورڈ پر لکھنا شروع کیا۔ طبرانی نے لکھا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے آپؐ سے روایت کی کہ اللہ خود فرماتا ہے: ’’نگاہ، ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے، جو شخص مجھ سے ڈر کر اسے چھوڑ دے گا، اسے اس کے بدلے میں ایسا ایمان دوں گا، جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پائے گا‘‘۔ پھر وہ جو پہاڑ کی طرح سخت تھے، روئی کے گالے کی طرح نرم ہو کر بولے: ’’میرے بچو! میں نے تم سے کبھی کچھ نہیں مانگا۔ آج ایک دعا، میرے لیے کر دو۔ میری زندگی اور موت دونوں آسان ہوجائیں گی۔ بیٹو! میری عبادت میں نہ لطف ہے، نہ لذت۔ مولا سے دعا کرونا میرے لیے، وہ نگاہوں کو سنبھالنا مجھے بھی سکھا دے۔ میں بھی اپنی نگاہوں میں سرخرو ہو جاؤں۔ کچھ اس کے دربار میں جاکر سر اٹھانے کے قابل ہو جاؤں۔‘‘ پھر ماسٹر صاحب نے سیدہ بریرہؓ کی روایت سنائی، جب نبی مہربانؐ نے سیدنا علیؓ سے فرمایا تھا: ’’اے علیؓ ! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالنا، پہلی نظر معاف ہے، دوسری نظر معاف نہیں۔‘‘ آنسو ان کی پلکوں پر تھے۔ ہچکیاں ہماری نکل رہی تھیں۔ وہ مزید کچھ کہے بنا کلاس سے نکل گئے، ہم جیسے ناخلفوں سے کوئی استاد اس سے بہتر کہہ بھی کیا سکتا تھا۔
میرا گھر اور اس کا چھوٹا سا میرے دفتر کا کمرہ جس میں علامہ اقبال ٹاؤن کے مین بلیو وارڈ سے خریدا، ڈارک گرین قالین تازہ تازہ بچھایا گیا تھا، اس لمحے بہت بڑا ہو گیا تھا اس میں اتنے بڑے استاد کا اتنا بڑا ذکر جو بھر گیا تھا۔ بعض یادیں اور باتیں اسی لیے تو زیادہ قابل قدر ہوتی ہیں کہ وہ سوچوں، دِلوں اور خواہشوں پہ پڑی گرد کو جھاڑ دیتی ہیں۔ وہ کسی ایسے چشمے کے پانی کی طرح ہوتی ہیں جو میٹھا بھی خوب ہوتا ہے اور آئینے کا کام بھی دیتا ہے ہاں جو کبھی ان باتوں، یادوں اور لوگوں کو یاد ہی نہ کرے۔۔۔ وہ اس خوشی، نعمت اور تازگی کو کیسے پا سکتا ہے۔۔۔ جو مولانے اسی کے لیے اُتاری ہوتی ہے۔ اللہ جی کو ایسے لوگ اسی لیے تو پسند ہیں جو غلطی کرتے ہیں اور پھر اس پہ جم نہیں جاتے۔ اپنی غلطی کوتاہی کی آواز سن کر اس کو پہلی فرصت میں بدل لیتے ہیں۔ یوں زندگی کی چادر پہ شکنیں نہیں پڑتیں اور جو پڑ جائیں تو ساتھ نکل جاتی ہیں۔ اگر شکنیں پڑتی رہیں اور بڑھتی رہیں تو ایک دن دور دیسوں سے آنے والی سیاح لڑکیاں بھی نفرت سے پوچھتی ہیں۔ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا تم لوگوں نے لڑکیاں نہیں دیکھیں! جب جواب نہیں ملتا تو غصہ ساتھ لے کر جاتی ہیں۔۔۔ اور اسے اخباروں کتابوں میں اُچھالتی ہیں اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ تب وہ اور بھی بری لگتی ہیں مگر میں ان مناظر کا کیا کروں جو ہمیں شام کو دیکھنے کو ملے، کھانے کے لیے ہوٹل کے لیے نکلے، لبرٹی جاتے جاتے کریم بلاک مارکیٹ چلے گئے،صاف ستھری دکانیں،بڑی بڑی باتیں اور ہر لڑکی کو گھورتی گندی نگاہیں، مظہر کچھ نہیں بولا مگر اب کے اس کے سامنے شرمندہ ہونے کی باری میری تھی۔ اتنے برسوں میں ہماری زندگی کی چادر پر شکنیں کم ہونے کے بجائے کچھ زیادہ ہی پڑ گئی ہیں۔