حبیب الرحمن
ملک جتنے مشکل دور سے اب گزررہا ہے شاید ہی اس سے قبل گزرا ہو۔ گزشتہ ادوار میں کچھ کرلینا شاید اس قدر مشکل نہ رہا ہو اور خاص طور پر حکومت میں آجانا یا حکومت کسی کے حوالے کرکے چلتے بننا لیکن جو حالات گزشتہ آٹھ دس سال سے چل رہے ہیں ان میں ایسا نہ توسویلین کے لیے آسان ہے اور نہ ہی عسکری قوتوں کے لیے سہل۔
یہ بات سب کو سمجھ میں آجانی چاہیے کہ حکومت میں آجانا کچھ مشکل نہیں البتہ حکومت کو قائم رکھنا بہت ہی دشوار گزارکام ہے۔ ایک مستحکم حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر معاملے میں نہایت مضبوط گرفت رکھتی ہو۔ اچھی شہرت کی حامل ہو، سارے ادارے ہر اعتبار سے اس کے قبضۂ قدرت میں ہوں اور سربراہ مملکت بہر لحاظ سب سے اعلیٰ کمانڈرہو، اپنے حکومتی اداروں پر ہی نہیں عسکری اداروں پر بھی اس کی پوری دسترس ہو اور کسی میں یہ جرأت نہ ہو کہ وہ آئین و قانون سے ماوریٰ کوئی قدم اٹھا سکے۔ ایک جمہوری حکومت میں ان تمام باتوں کے علاوہ یہ خوبی بھی ہونی چاہیے کہ وہ عوام کی واضح اکثریت کا حمایت یافتہ ہو، عوام میں مقبول ہو اور عوام اس سے خوش اور مطمئن ہوں۔
بد قسمتی سے ہمارے ملک میں جو بھی منتخب ہوکر آیا وہ مذکورہ معیار پر پورا نہیں اترا۔ کوئی اپنی متنازع شہرت کی وجہ سے، کوئی اچھے کردار کے نہ ہونے کی وجہ سے اور کوئی حاکمانہ صلاحیتوں میں کمی کی سبب۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر آنے والے کو ’’طاقتور‘‘ محکموں کا وہ تعاون نہ مل سکا جو کسی بھی حکومت کے لیے ضروری ہوتا ہے کیوں کہ وہ تعاون ’’برابری‘‘ کے حاکمانہ حقوق سے مشروط رہا۔ کیوں کہ ایسا جمہوری ادوار میں نہ ہو سکا اس لیے حکومتیں بھی اپنی مدتیں پوری نہ کر سکیں۔ تاریخ میں ایک جمہوری دور ایسا ضرور گزرا ہے جس نے اپنی قانونی مدت ضرور پوری کی ہے لیکن اس کے پس پردہ بھی ’’خاموشی‘‘ کا عمل دخل رہا۔ یہ دور زرداری دور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
مارشل لاکے دور حکومت میں بلاشبہ حکمرانوں کو ہر قسم کے اختیارات کے ساتھ سول اور عسکری اداروں پر مکمل کنٹرول اور کمانڈ حاصل رہی لیکن اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ ادوار عوام کی تائید سے بری طرح محروم رہے۔ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جب جب بھی ان کا اختتام ہوا، لوگوں نے ان کو آج تک اچھے ناموں سے یاد نہیں کیا جن میں ایوب خان، یحییٰ خان تو شامل ہیں ہی لیکن جس ذلت کا سامنا پرویزمشرف کو رہا اور تا حال ہے وہ شاید کبھی کسی اور کا نصیب نہ ٹھیرے۔ اس سے جو بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ’’طاقت‘‘ کے سہارے بھی کسی حکومت کو پائیداری حاصل نہیں ہو سکتی۔ طاقت اپنی جگہ لیکن عوام کی قربت اور محبت کے بغیر نہ تو فرعونیت چل سکتی ہے اور نہ ہی ’’مارشل لا‘‘۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں ساری بکھری ’’اکائیاں‘‘ ایک پیج پر کس طرح آسکتی ہیں؟ آبھی سکتی ہیں یا اس کے امکانات ہی نہیں ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اگر فوری طور پر حاصل کر لیا جائے تو وہ خطرات جو ملک کے طول و عرض میں اور ملک کی حدود سے باہر منڈلا رہے ہیں ان سے نہ صرف تحفظ مل سکتا ہے بلکہ پاکستان آگے کی جانب بڑھ کر دنیا میں ایک اعلیٰ مقام حاصل کر سکتا۔
جب سویلین دور ہوتا ہے تو پاکستان کے عوام تمنا کر رہے ہوتے ہیں یا ان کی اذہان سازی کی جا رہی ہوتی ہے کہ یہ سارے سیاستدان اتنی صلاحیت ہی نہیں رکھتے کہ وہ امور حکومت و مملکت چلا سکیں اور جب مارشل لا کا دور آتا ہے تو عوام ایک بار پھر جمہوریت کی جدوجہد میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ جب تک اس بات کا کھوج نہیں لگایا جائے گا اس وقت تک شاید کسی بھی طرز کی حکومت کو استحکام نہیں مل سکے اور یہی وہ عدم استحکام ہے جس کی وجہ سے پاکستان دنیا میں کوئی مقام بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا بلکہ اب (خاکم بدہن) اس کا اپنا وجود بھی غیر یقینی کی کیفیت کا شکار نظر آتا ہے۔
اسلام نے کوئی طرز حکومت پتھر کی لکیر کی طرح طے کر کے نہیں دیا۔ اسلام کو اس سے بھی بحث نہیں کہ حاکم وقت کن خطابات سے نوازا جاتا ہے، وہ باد شاہ کہلاتا ہے، امام کہلاتا ہے، صدر کہلاتا ہے یا وزیر اعظم۔ وہ جو بھی ہے اللہ کا نائب (خلیفہ) ہی ہے۔ طرز حکومت کوئی بھی ہو، حاکمیت اعلیٰ اللہ کی ذات کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔ حاکم کو ہٹایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کے کسی بھی حکم سے انکار کیا جا سکتا ہے الّا یہ کہ وہ کوئی ایسا حکم دے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے خلاف ہو۔ سارے ادارے اس کے ہی قبضہ قدرت میں ہوں گے خواہ وہ طاقتور ترین عسکری ادارے ہی کیوں نہ ہوں اورحاکم وقت کا اپنا سب کچھ اللہ کے حوالے ہوگا۔ وہ حاکم ہو کر بھی خادم قوم و ملت ہوگا اورملک کی دولت کی ایک ’’کوڑی‘‘ کے خورد برد پر بھی اس کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
پاکستان جس کو صرف اور صرف اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا بد قسمتی سے وہ اس نظام کو ملک میں نافذ کرنے میں بری طرح ناکام رہا جس کا اللہ سے وعدہ کیا گیا تھااور کسی نئے نظام کو عوام پسند کرنے کے لیے تیار و آمادہ ہی نہیں، یہی وجہ سے کہ یہاں جتنے بھی تجربے کیے گئے وہ اب تک بری طرح ناکام ہو چکے ہیں لیکن ہم ہیں کہ تجربات کرنے سے باز آکر ہی نہیں دے رہے ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ اگر جمہوریت پر شب خون مار بھی دیا جاتا تھا تو سیاستدان ہوں یا عوام وہ اس شب خون پر خون کے گھونٹ پی کر خاموش ہوجایا کرتے تھے لیکن اب جس خوفناکیت نے جڑ پکڑنا شروع کردی ہے وہ عوام میں اس بیداری کا ابھر نا ہے کہ اگر ہر مرتبہ عوامی حکومتوں کو ریت کے گھروندوں کی طرح توڑدینا ہی لازم ٹھیرا ہے تو پھر بار بار کے اس مذاق کی ضرورت ہی کیا ہے۔
کسی بھی قوم کے مزاج کو بنانا کوئی آسان کام نہیں لیکن ناممکن بھی نہیں۔ چناں چہ رہبران قوم، قوم کو یہ سمجھانے میں مصروف نظر آرہے ہیں کہ ’’آپ‘‘ (عوام) کی رائے کی بھی ایک تقدیس ہے اور اس کو بار بار پامال کرنا ’’آپ‘‘ کی سخت تو ہین ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو ہمیں ترقی اور سدھار کی جانب لے جانے کے بجائے ٹکراؤ اور تباہی کی جانب بھی لیجا سکتا ہے اور اگر ٹکراؤ کی اس کیفیت کو جلد دور نہیں کیا جائے تو حالات بہت ہی سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
کئی خرابیوں میں یہ بھی ایک بہت بڑی خرابی ہے کہ ہم کسی کو بھی میرٹ پر آگے نہیں آنے دیتے بلکہ ایک ایسانظام جو ’’خود کار‘‘ ہو بنانے میں بری طرح ناکام ہیں۔ ججوں کا انتخاب، اداروں کے سر براہوں کو ان کی سینیارٹی پر اوپر آنے اور اپنے اداروں کی سربرہی تک پہنچنے کا نظام جیسے امور بد قسمتی سے طے نہ پا سکے جس کی وجہ سے کوئی ادارہ بھی حکومتی جکڑ بندیوں سے آزاد نہیں ہو سکا حتیٰ کہ افواج پاکستان کے سر براہ کو بھی جس طرح منتخب کیا جاتا ہے وہ مناسب نہیں۔ کئی کئی سینئرز کو چھوڑ کر کسی ایسے فرد کا انتخاب جس کو حکومت اپنا زیادہ فرمابردار سمجھتی ہے اس کو منتخب کر لیتی ہے جس کی وجہ سے اسے اپنے ہی ادارے میں مقام بنانے میں اچھا خاصہ وقت لگ جاتا ہے۔
معاشرے میں جتنی بھی اچھائیاں یا برائیاں ہوتی ہیں وہ کم و بیش ملک کے ہر طبقے میں ہوتی ہیں۔ جس طرح معاشرے کی اچھائی یا برائی میں ہر فرد کسی نہ کسی درجے میں ضرور شریک ہوتا ہے اسی طرح ہمارے سیکورٹی کے ادارے بھی ان سے یقیناًمتاثر ضرور ہو تے ہوں گے کیوں کہ وہ بھی کسی بیرونی دنیا کے نہیں ہوتے۔ سیاسی اور سماجی شخصیات کی پسند و نا پسند ان میں بھی اتنی ہی ابھرتی ہوگی جتنے عوام میں ابھرتی ہوگی یہ دوسری بات ہے کہ وہ محکمہ جاتی نظم و ضبط کی وجہ سے اظہار خیال کرنے یا نہ کرنے کے پابند ہوں۔ اس کا اندازہ ان کی ریٹائرڈ منٹ کی زندگی کے بعد خوب اچھی طرح ہوجاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جن حالات و کیفیات سے اس وقت پاکستان گزر رہا ہے اس کے لیے کسی بھی وقت ریاست کو بچانے کے لیے کوئی نہ کوئی انتہائی قدم اٹھانا ضروری ہوتا جا رہا ہے لیکن کیا ایسا کرنے کی پوزیشن میں پاکستان کا سب سے ’’طاقتور‘‘ ہے؟
لہٰذا اگرپاکستان کو آگے کی جانب لیجانا ہے، اندرونی و بیرونی خطرات سے بچانا ہے تو اپنی اپنی اناؤں کے بتوں کو پاش پاش کرنا اور یک جان ہونا بہت ضروری ہے اور بجائے اس کے کہ ملک اور اس کے عوام کو ٹکراؤ کی جانب لیجایا جائے، ایک دوسرے کے قریب آنے کا راستہ تراشنا ہے ورنہ ممکن ہے کہ پانی سر کے اوپر سے نکل جائے اور زمین پیروں کے نیچے سے سرک جائے (ہزاربار خدانخواستہ)۔ امید ہے کہ اشاروں کنایوں میں بیان کی جانے والی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی اور پاکستان کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے نئی نئی جہتیں تراشی جائیں گی۔