محمد سلیمان
نوبل انعام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس ایوارڈ کو دنیا اسے اپنے شعبوں کے اعلیٰ ترین انعام کے طور پر دیکھتی ہے۔ ویسے تو نوبل انعام 6 شعبوں میں دیا جاتا ہے لیکن اس کی اصل خوبصورتی سائنس کے 3 شعبے طب و فعلیات، کیمیا اور طبیعیات ہیں۔سائنس کے انعامات میں یہ بات خاص طور پر دیکھی گئی ہے کہ یہ انعام ایجادات کے بجائے دریافتوں پر دیے جاتے ہیں۔نوبل انعام یافتگان عام طور خالص تحقیق کے سائنس دان ہوتے ہیں جو اہم دریافتیں کرتے ہیں۔ آگے چل کر یہی دریافتیں بہت سے شاندار ایجاد کی بنیاد بنتی ہیں۔ اس مضمون میں نوبل انعام 2017ء کے انہی 3 شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا جس میں انعام حاصل کرنے والے سائنس دانوں کا مختصر تعارف اور ان کی اس تحقیق کا عمومی جائزہ پیش کیا جائے گا۔اس بار سائنس کے انعامات مجموعی طور پر 9 سائنس دانوں کو دیے گئے ہیں اور یہ تمام کے تمام مرد ہیں۔اس بار یہ انعام حاصل کرنے والے 7 سائنس دان امریکی ہیں جبکہ ایک کا تعلق برطانیہ اور ایک سوئس نژاد جرمن ہیں۔ کیمیا اور طب کے نوبل انعام کا تحقیقی کام کافی پرانا ہے یعنی 1980ء کی دہائی میں کیا گیا تھا البتہ طبعیات کا نوبل انعام نسبتاً نئے کام پر ہے۔
نوبیل انعام برائے طب و فعلیات
مکھی سے نوبل انعام تک
’’فون کی گھنٹی بجی تو میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ پہلے تو میں یہ سمجھا کہ خاندان میں کسی کا انتقال ہوگیا ہے لیکن دوسری جانب سےمیرے نام کی تصدیق کرنے کے بعد جب یہ بتایا گیا کہ مجھے نوبل انعام کے منتخب کرلیا گیا ہے تو میری حیرت دوچند ہو گئی‘‘۔ یہ الفاظ ہیں پروفیسرڈاکٹر روسباش کے جنہیں اس سال طب و فعلیات کے نوبل انعام کا شریک حقدار قرار دیا گیا ہے۔ یہ انعام حاص کرنے والے دیگر سائنس دانوں میں پروفیسر جیفری ہال اور ڈاکٹر مائیکل ینگ ہیں۔ڈاکٹر ہال اور ڈاکٹر روسباش کا تعلق امریکا کی جامعہ برینڈز سے جبکہ ڈاکٹر ینگ نیویار ک کی راک فیلر یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔ان تینوں نے 70 کی دہائی میں اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں تھیں۔
جس تحقیق پر انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا وہ 1984ء میں ایک عام سی مکھی کے ڈی این اے پر کی گئی تھی۔ تینوں سائنس دانوں نے مکھی کے ڈی این اے سے ’’پیریڈ‘‘ نامی جین علیحدہ کیا تھا جو جانداروں میں موجود حیاتیاتی گھڑی کو چلانے کا ذمے دار ہے۔
اگر آپ نے کبھی طویل بین الاقوامی سفر کیا ہوتو یہ ضرور محسوس کیا ہوگا کہ نئے ملک پہنچنے پر وہاں کے دن رات سے واقف ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ ایسا ہمارے جسم کی حیاتیات گھڑی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ گھڑی تمام جاندار اجسام میں پائی جاتی ہے اور ہمیں اس سیارے یعنی زمین کے 24 گھنٹے کے دن سے ہم آہنگ رکھتی ہے۔ویسے تو اس حیاتیاتی گھڑی کے اثر کا مطالعہ تیسری صدی قبل از مسیح سے موجود ہے جب سکندر اعظم کے ایک ملاح نے املی کے پودوں کے پتوں کو رات کو بند اور دن میں کھلتے ہوئے دیکھا۔ اسی طرح تیرہویں صدی کے چینی طبی مخطوطوں میں بھی اس گھڑی کا ذکر ملتا ہےلیکن اصل سائنسی مطالعہ 1729ء میں فرانسیسی محقق جیمز جیکوئس نے کیا۔ 1956ء میں ڈی این اے کی دریافت کے بعد ایک نیا دور شروع ہوا تو اس گھڑی پر بھی مطالعات تیز ہوگئے۔ روسباش، ہال اور ینگ کی تحقیق سے پہلے سیمور بنزر اور رونالڈ کونوپکا نے یہ معلوم کیا تھا کہ یہ گھڑی ایک جین کی وجہ سے چلتی ہے جسے بعد میں ان تینوں سائنس دانوں نے دریافت کیا۔
اس گھڑی کی تین خصوصیات ہیں۔
اول یہ کہ یہ گھڑی ہمارے 24 گھنٹے کے دن سے ہم آہنگ ہے۔
دوسرا گھڑی اپنے اوقات تبدیل کرسکتی ہے۔
تیسرا کہ یہ گھڑی درجہ حرارت میں تبدیلی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جسمانی گھڑی (Circadian Rhythm) ہماری روز مرہ زندگی کے لیے اہم ہے۔اس کی مدد سے ہمارا جسم بہت سے افعال سرانجام دیتا ہے۔ ہماری بھوک، نیند اور مختلف ہارمونز کے اخراج کے اوقات بھی اسی تال کی مدد سے طے کیے جاتے ہیں۔ اس گھڑی کی خرابی کی صورت میں ذیابیطس اور دل کے دورے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین مجموعی طور پر اس اعلان سے مطمئن ہیں۔ نیویارکر کے جیروم گروپمین کہتے ہیں کہ سائنسی تحقیق کے لیے رقم دینے والے ادارے عام طور پر ایسی تحقیقات کو اہمیت دیتے ہیں جن کا جلد از جلد اطلاق ہوسکے۔ نوبل انعام کی کمیٹی کا یہ فیصلہ اچھا ہے کیونکہ اس قسم کی تحقیقات کو عام طور مالی مسائل کا سامنا رہتاہے۔ کچھ ماہرین اس فیصلے پر کسی حد تک حیران نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک کچھ دیگر تحقیقات بھی اچھی رہی تھیں جیسا کہ ڈاکٹر پال ایلسن، گورڈن فری مین اور ڈاکٹر آرلین شارپ کی کینسر پر تحقیق ہےجس کے مطابق ہمارے مدافعاتی نظام کو کینسر کے خلاف مظبوط بنایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح جینز کو مدون (Gene Editing) کرنے کی ٹیکنیک کرسپر (CRISPR) بھی عمدہ امیدوار تھا لیکن اس تحقیق میں 4 سائنس دان شریک تھے (نوبل انعام زیادہ سے زیادہ 3 افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے) جبکہ اس تحقیق پر کچھ پینٹنٹ کے مسائل بھی تھے۔
طبعیات کا نوبیل انعام
آئن اسٹائن کی حکمرانی جاری
میرے خیال میں جتنی شہرت آئن سٹائن کے نظریہ اضافت کو ملی ہے اور کسی سائنسی نظریے کو نہیں ملی۔ سائنس دان تو سائنس دان علمائے دین اور شاعروں تک نے اسے موضوع سخن بنایا ہے۔ اس نظریے نے ماورایت اور روحانیت کو بھی ایک سائنسی پہلو بخشا ہے۔ آئن اسٹائن کے اس نظریہ کے 2 حصے ہیں. پہلا حصہ 1905ء میں نظریہ اضافت خصوصی کے نام سے ’متحرک اجسام کے برق حرکیات کے متعلق‘میں پیش کیا گیا۔ مشہور زمانہ توانائی کمیت کی مساوات بھی اسی نظریے کی پیداوار ہے۔ اپنی تحقیق کے 10 سال بعد 1915ء میں آئن اسٹائن نے نظریہ اضافت عمومی پیش کیا جس کی رو سے یہ کائنات ایک زمان و مکاں کی ایک سطح ہے جیسے کپڑے (Fabric)کی سطح ہوتی ہے۔ اس میں چھوٹے بڑے اجسام رکھے گئے ہیں۔ زیادہ وزنی اجسام کپڑے کی اس سطح میں زیادہ دھنسے ہوئے ہیں۔ ان اجسام کی کمیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کپڑے کی سطح میں لہریں پیدا کرتے ہیں جس سے دوسرے اجسام متاثر ہوتے ہیں۔کہنے کو تو یہ نظریہ ایک فلسفیانہ موشگافی لگتی ہے لیکن اس کے پیچھے ایک پیچیدہ ریاضی موجود ہے جس کے باعث اس کا تجرباتی ثبوت نہ ہونے کے باوجود اسے جھٹلانا مشکل تھا۔اس نظریے کو پیش کرنے کے ٹھیک 100 برس بعد امریکا میں دو رسد گاہوں نے اس کی تجرباتی تصدیق بھی کردی ۔ان رسدگاہوں میں لیزر انفرومیٹری گرویٹیشنل ابزرویٹری یا لیگو (LIGO) کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
لیگو امریکی ریاست ایڈہائیو میں واقع یہ رصدگاہ ایک عمارت اور 4 کلومیٹر لمبے 2 پائپوں پر مشتمل ہے۔ یہ دونوں پائپ ایک دوسرے سے قائمہ زاویہ بنا رہے ہیں جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ان دونوں پائپوں میں ایک انتہائی مرتکز لیزر شعاعیں ایک ساتھ بھیجی جاتی ہیں۔ دوسرے سرے پر یہ شعاعیں ایک آئینے سے منعکس ہوکر واپس آتی ہیں۔یہ دونوں پائپ نینو میٹر کے پیمانے تک لمبائی میں برابر ہیں اس لیے ان دونوں شعاعوں کی واپسی کا وقت بھی یکساں ہوتا ہے۔ شعاع کو بھیجے جانے کا وقت اور ان کی واپسی کے وقت سے معلوم کیا جاتا ہے کہ ان دونوں پائپوں کی لمبائی برابر ہے یا نہیں۔ زمین پر رکھے ہوئے ان پائپس کی لمبائی میں تبدیلی کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی تاہم 14 ستمبر 2015 ء کے دن ایک ساتھ بھیجی جانے والی لیزر بیمز ایک ساتھ واپس نہیں آئیں۔ یہ بہت کم وقفہ تھاچند نینو سیکنڈ کا لیکن در حقیقت یہ مختصر سا وقفہ انسانیت کو بہت کچھ دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ایک بیم کے چند نینو سیکنڈ دیر سے واپس آنے کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ مذکورہ پائپ کی لمبائی میں کچھ اضافہ ہوگیا ہے یا دوسرے پائپ کی لمبائی میں کچھ کمی ہوگئی ہے۔ کوئی بھی اعلان کرنا قبل از وقت ہوسکتا تھا اس لیے ماہرین نے کڑی چانچ کی اور ملنے والی شماریات کا بہت باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد 11 فروری 2016 ءکو اس کا باقاعدہ اعلان کیا۔ تجزیہ سے یہ بات سامنے آئے کہ پائیپس کی لمبائی میں فرق کی وجہ ایک ثقلی لہر ہے جو آج سے تقریباً 13 ارب سال پہلے 2 بلیک ہولز کے ملنے سے وجود میں آئی تھی۔ یعنی آئن اسٹائن کا نظریہ اضافت عمومی بھی تصدیق پا گیا۔
کہنے کو تو 100 سال پہلے آئن اسٹائن نے ثقلی لہروں کا ریاضیاتی حساب پیش کردیا تھا لیکن اس کا حقیقی ثبوت ملنے میں مزید بہت سی تحقیق کرنا پڑی۔1967ء میں رینر ویز نے لیزر تداخل پیما (Laser Inferometer) کا ایک خاکا تیار کرلیا تھا لیکن اسے بنایا نہیں جاسکا۔ 1968ء میں کپ تھورن ثقلی لہروں پر کچھ مزید ریاضیاتی کام کیا۔ 70ء اور 80ء کی دہائیوں میں بہت سے ابتدائی نمونے بنائے لیکن حقیقی کامیابی اس وقت ملی جب 1989ء میں لیگو نے باقاعدہ کام کرنا شروع کیا۔تاہم اس کے پہلے ڈائریکٹر روکس ووگٹ ایک ناکام افسر ثابت ہوئے۔1994ء میں ووگٹ کی علاحدگی کے بعد بیری بیرش کو نیا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا اور رصد گاہ نے زور شور سے کام شروع کردیا۔
گزشتہ سال ثقلی لہروں کے ثبوت سامنے آنے کے بعد ہی بحث بھی شروع ہوگئی تھی کہ اب لیگو سے منسلک لوگوں کو نوبل انعام کب ملے گا۔ واضح رہے کہ نوبل انعام فوری طور پر نہیں ملتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دریافت کے کئی سال بعد انعام کا اعلان کردیا جائے جیسا کہ ہم طب کے انعام کے بارے میں دیکھا کہ تحقیق کے 33 سال بعد انہیں انعام کا حق دار قرار دیا گیا۔البتہ اس سلسلے میں رینر ویز، کپ تھورن اور بیری بیرش کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا انہیں اگلے برس ہی ان کی محنت کا پھل مل گیا۔ انعام یکساں طور پر تقسیم نہیں کیا گیا کیونکہ واضح طور پر رینر کا کام زیادہ محسوس ہوتا ہے اس لیے انہیں اس انعامی رقم کا نصف ملے گا اور باقی نصف تھورن اور رینر کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا۔ اگر عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ تینوں سائنس دان کافی معمر ہیں۔ ویز کی عمر اس وقت 85 برس، تھورن 77 برس اور بیرش 81 برس کے ہیں۔
نوبیل انعام برائے کیمیا۔ سالموں کی دنیا میں
آج سے 300 سال قبل جب رابرٹ ہک نے خردبین ایجاد کی تھی تو کسی بھی شے کو محض چند گنا بڑا کرکے دکھا سکتی تھی لیکن اس نے ایک نئی دنیا کا دروازہ کھول دیا۔انتہائی چھوٹے پیمانے پر اشیا کو دیکھنے کا اشتیاق بڑھتا چلا گیا اور جب انیسویں صدی کے آواخر میں ایٹم اور مالیکیول سامنے آئے تو ان کی تصویر کشی بھی کوششیں شروع کردی گئیں۔
1933ء میں جرمن سائنس دان ایرنسٹ رسکا نے الیکٹران خردبین ایجاد کرکے 1936 ء کا نوبل انعام جیتا۔اس کے بعد ایسے آلات کی تیار کی دوڑ شروع ہوگئی اور بہت تیزی کے ساتھ مقناطیسی تصویر کشی، کمپیوٹرائزڈ ٹومو گرافی اور دیگر کئی طرح کے طریقے ایجاد کیے گئے جس کی مدد سے نہ صرف طبی تحقیق کو فائدہ ہوا بلکہ دیگر علوم بھی بہرہ مند ہوئے۔ الیکٹران خردبین اچھی تھی کیونکہ یہ بہت ہی مختصر اجسام کو بھی دکھانے کی صلاحیت رکھتی تھی لیکن اس کا سب سے بڑا نقصا ن یہ تھا کہ جس چیز کی تصویر لینا مقصود ہوتا تھا اس پر الیکٹران کی بمباری کی جاتی تھی جس کی وجہ اس چیز خود بھی تباہ ہوجاتی تھی۔ 1980ء کی دہائی میں جیکوئس ڈوبوچے، رچرڈ ہنڈرسن اور جاؤکم فرینک نے ’سرد الیکٹرانی خربینی (Cryo-Electron Mircroscopy)‘‘ پر تحقیق کی جو کافی کامیاب رہی۔اس تحقیق کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی مدد سے پہلی مرتبہ ہم اس قابل ہوئے کہ مالیکیولز کی سہ جہتی تصاویر حاصل کرسکیں۔تصویر میں دکھایا گیا پروٹین کا ڈھانچہ فوٹوشاپ یا اسٹوڈیو تھری ڈی میکس سے نہیں بلکہ اسی سرد الیکٹرانی خردبینی مشین سے نکلا ہے۔ اس مشین میں انتہائی کم درجہ حرارت پر کسی جسم کو رکھا جاتا ہے اور اس پر الیکٹرانز کی بوچھاڑ کی جاتی ہے۔الیکٹران لہر کی شکل میں مالیکیول سے نکلتے ہیں اور دوسری جانب ایک مخصوص کیمرے میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں اس چیز کی ہزاروں تصاویر لی جاتی ہیں۔اس کے بعد یہ تصاویر کمپیوٹر کو دی جاتی ہیں جو ایک سافٹ وئیر کی مدد سے ان دو جہتی تصاویر کو سہ جہتی تصاویر میں منتقل کرتا ہے۔اس شاندار مشین کی بدولت یہ ممکن ہے کہ ہم سالماتی پیمانے پر اجسام کی تصاویر لے سکیں اور انہیں مکمل طور پر دیکھ کر یہ اندازہ لگا سکیں کہ یہ کیا چیزیں ہیں۔سرد الیکٹرانی خردبینی کا سب سے بڑا فائدہ تو طب کو ہوگا لیکن ہم اس کی مدد سے ہر قسم کے سالمات کی تصاویر دیکھ سکتے ہیں خواہ وہ کسی دھات کے مالیکیول ہوں یا نیم زندہ وائرس۔ اس انعام کے متعلق ایک بحث یہ بھی ہے کہ آیا یہ کام طبیعیات کا ہے یا کیمیا کا جبکہ اس کی سب سے زیادہ اطلاقیات طب میں نظر آتی ہیں۔
یہ انعام تینوں سائنس دانوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ان میں سے ڈاکٹر فرینک کا تعلق امریکا، ڈاکٹر ڈوبوشے سوئٹزرلینڈ اور ڈاکٹر ہنڈرسن کا تعلق برطانیہ سے ہے۔طبعیات کی طرح یہ سائنس دان بھی کافی عمر رسیدہ ہیں جن کی عمریں بالترتیب77، 75 اور 72 برس ہیں۔