عاجزی و انکساری

4475

ڈاکٹر سعید مراد
نبی کریمؐ مسلسل تواضع کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر انھیں اللہ کی خوشنودی کی طرف لے جائیں۔ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’جو اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اس کے مرتبے کو بلند کرتا ہے۔ وہ اپنے نفس میں چھوٹا ہوتا ہے لیکن لوگوں کی نظروں میں عظیم ہوتا ہے۔ اور جو متکبر ہوتا ہے اللہ اس کے مرتبے کو پست کردیتا ہے۔ وہ اپنی نظروں میں بڑاہوتا ہے، جب کہ لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ لوگوں کے ہاں کتے اور خنزیر سے بھی زیادہ ذلیل ہوتا ہے۔‘‘ (کنز العمال)
نبی اکرمؐ نے ہمارے سامنے عاجزی وانکساری کی بلند مثال پیش کی۔ قیس بن ابی حازمؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبیؐ کے پاس آیا۔ جب آپ کھڑے ہوئے تو وہ کانپنے لگا۔ آپ نے فرمایا: ’’پْرسکون رہو میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں بلکہ ایسی قریشی عورت کا بیٹا ہوں جو خشک روٹی کے ٹکڑے کھایا کرتی تھی۔‘‘ (مستدرک حاکم)
ابن ابی اوفیؓ فرماتے ہیں: ’’نبی اکرمؐ بیوہ اور مسکین کے ساتھ چلنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے ساتھ جاتے اور ان کی ضرورت پوری کرتے۔‘‘ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول میری جان آپ پر قربان ہو! آپ ٹیک لگا کر کھائیں، یہ کھانے کا آسان طریقہ ہے ،اس پر آپ نے جواب دیا: عائشہ! میں ٹیک لگا کر نہیں کھاؤں گا بلکہ اس طرح کھاؤں گا جس طرح ایک غلام کھاتا ہے، اور غلام کی طرح بیٹھوں گا۔‘‘ (بغوی شرح السنہ)
ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیرکے وقت تمام صحابہ کرام اینٹیں اْٹھا رہے تھے اور آپؐ بھی ایک عام مزدور کی طرح کام کررہے تھے۔ میں نے آپ کو دیکھا، آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا ہے۔ میں نے خیال کیاکہ اس پتھر نے آپ کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ پتھر مجھے دے دیں۔ آپ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! اس کے علاوہ کوئی اور پتھر لو، اور حقیقی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔‘‘
نبی اکرمؐ کی زندگی انسانیت کے لیے نمونہ ہے۔ آپ اللہ کے ہاں ساری مخلوق سے افضل ہیں۔ اعلیٰ اخلاق سے مزین ہیں۔ آپؐ میں اعلیٰ درجے کی تواضع بھی ہے۔ یہ کیسے نہ ہو، جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے: ’’بلاشبہہ آپ اخلاق کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہیں۔ (القلم) دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’آپ اپنے بازؤں کو مومنین کے لیے جھکا دیں۔ ان کے ساتھ عاجزی سے پیش آئیں۔‘‘ (الحجر) قرآن کریم نے تکبر، خودپسندی اور غرور کی مذمت کی: ’’تم زمین پر اکڑکر نہ چلو، نہ تم زمین پھاڑ سکتے ہو اور نہ ہی پہاڑوں کی بلندیوں کو پہنچ سکتے ہو۔ ان اْمور میں سے ہر ایک کام تیرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل)
آپؐ نے تکبرسے منع کیا۔ ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’تکبر سے بچو، بندہ ہمیشہ تکبرکرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ اس بندے کا نام متکبرین میں لکھ دو۔‘‘ (کنز العمال) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’لوگوں سے بے رخی اختیار نہ کرو اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔ بے شک اللہ ہر متکبر، مغرور انسان کو پسند نہیں کرتا، اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو، اپنی آواز پست کرو، بے شک آوازوں میں سب سے بْری آواز گدھوں کی ہے۔‘‘ (لقمان)
ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’جو آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور اپنی چال میں تکبرکرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پرغصے ہوگا۔‘‘
(کنز العمال)
قرآن کریم لوگوں کو اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ زمین میں تکبر کا انجام ناکامی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو پھیردوں گا جو ناحق بڑے بنتے ہیں۔ اگر وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں، تب بھی وہ ان پرایمان نہیں لائیں گے۔ اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھ لیں تو اس پر نہیں چلیں گے، اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائیں اور ان سے بے پروائی کرتے رہے۔‘‘ (الاعراف)
اللہ تعالیٰ متکبرین پر سخت غصے کا اظہار کرتا ہے۔ انھیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے۔ فرمایا: ’’یقیناًاللہ تعالیٰ جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں، بلاشبہہ اللہ تکبر کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔‘‘ (النحل) ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’کیا جہنم متکبرین کا ٹھکانہ نہیں؟ (الزمر) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’آج کے دن تمھیں رسوا کن عذاب کا بدلہ دیا جائے گا، زمین میں تمھارے ناحق تکبر اور تمھاری نافرمانیوں کے سبب۔‘‘ (الاحقاف) یہ تمام سزائیں اس لیے ہیں کہ وہ صفت بڑائی میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ جھگڑتے ہیں۔ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’بڑائی میری چادر ہے، عظمت میری ازار ہے۔ جس نے میرے ساتھ ان صفات میں جھگڑا کیا، میں اسے آگ میں ڈال دوں گا۔‘‘ (کنز العمال)