مولانا سید طفیل احمد
آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس، علیگڑھ
(گزشتہ سے پیوستہ)
بنو اسرائیل کا مذہب
بنو اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد تھے، اس لیے انہیں پورا موحد ہونا چاہیے تھا۔ ابتدا میں ضرور ان میں سے کچھ لوگ اپنے بزرگوں کی تعلیم کی روایات اور اثرات سے موحد رہے، مگر جب کہ ان کے گردو پیش کی تمام دنیا دیوتائوں سے خوف زدہ ہو کر ان کی پوجا کرتی تھی، پجاریوں کا ہنوں اور جادو گروں کے زیر اثر تھی، اور ہر طرف اوہام و تعصبات کی ہوائیں چل رہی تھیں، تو یہ لوگ ان سے کس طرح بچ سکتے تھے۔ البتہ یہ ان کی خوش نصیبی تھی کہ ان کی اصلاح کے لیے مسلسل پیغمبر آئے، جو انہیں اوہام سے نکالتے رہتے تھے، تاہم آئے دن وہ پھر گمراہ ہو جاتے تھے۔ چناں چہ ابتدائی زمانہ میں یہود بھی مثل دیگر اقوام کے بہت سے دیوتائوں کی پوجا کرنے لگے تھے۔ چناں چہ حضرت یرمیاہ علیہ السلام نے چھٹی صدی قبل مسیح میں یہود سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’تمہارے جتنے شہر ہیں اتنے ہی دیوتا ہیں‘۔
وہ لوگ مثل اپنے ہمسایوں کے اپنے خاندانی دیوتائوں، جانوروں، پتھروں اور درختوں کی پوجا کرتے تھے۔ جب کوئی پیغمبر ان پر غالب ہو جاتا، تب تو وہ ضرور راہِ راست پر آجاتے تھے، مگر اس کے ہٹ جانے پر کبھی بچھڑا بنا کر اور کبھی پتھر گھڑ کر ان کی پرستش کرنے لگتے تھے۔ ان کے ہر گھر میں اپنے بزرگوں کی مورتیاں ہوتی تھیں۔ اسی طرح مخروطی شکل کے پتھر کے بت ہوتے تھے، جنہیں بعل کہتے تھے اور بعل مختلف شہروں کے نام سے منسوب ہوتے تھے۔ ان دیوتائوں میں سب سے بڑا اور طاقت ور ’یہوہ‘ یا ’جیوہ‘ تھا۔
پیغمبروں کی تعلیم سے جھوٹے دیوتائوں اور بتوں کی اہمیت روز بروز گھٹتی گئی، تاہم سب سے بڑے دیوتا ’یہوہ‘ کی اہمیت بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ جس معبد میں ’یہوہ‘ کی مورتی ہوتی، وہاں کسی اور مورتی کے رکھے جانے کی اجازت نہ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ بنو اسرائیل کے پرانے تابوت میں جسے وہ لیے لیے پھرتے تھے ’یہوہ‘ کے نام کا پتھر رکھا تھا، جس کے باعث وہ ’تابوت یہوہ‘ کہلاتا تھا۔
ان لوگوں کے عقیدے میں اس کی ہم شکل مورتی بنانا ممنوع تھا، مگر جب بخت نصر نے بنو اسرائیل کو یروشلم میں لُوٹا اور قید کرکے بابل لے گیا، تو سامان کے ساتھ یہود کا بت بھی ضائع ہوگیا اور ان کے عقیدے کے مطابق اس کا ہم شکل بت کوئی نہیں بنایا گیا۔ اس طرح سنگ پرستی سے اس قوم کی گلو خلاصہ ہوئی اور انبیا کی ڈیڑھ ہزار برس کی تبلیغ پوری طرح مؤثر اور کارگر ثابت ہوئی، اور تابوت میں بجائے ’یہوہ‘ کے پتھر کے ’خدا کے 10 احکام‘ کی تختی رکھی گئی اور تابوت یہوہ کی جگہ اس کا نام تابوت احکام یا تابوت سکینہ رکھا گیا، جو غالباً اس کا ابتدائی اور قدیمی نام ہوگا۔
بعض اصحاب بنو اسرائیل کو ضعیف العقیدہ اور ان کے پیغمبروں کو کمزور کہتے ہیں، مگر اس زمانہ کی مشکلات کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس زمانہ کو اس وقت کئی ہزار برس ہوگئے ہیں۔ اس عرصے میں سیکڑوں پیغمبروں اور ہزاروں مصلحوں اور مجددوں نے توحید کی تبلیغ کی، اور علومِ جدیدہ اور جدید سائنس نے بھی انسانوں کے دماغوں کو بہت کچھ روشن کیا، مگر جائزہ لیا جائے تو اب بھی بہت کم لوگ ایسے نکلیں گے، جو خدا کے سوا دوسروں پر سہارا نہیں کرتے اور ضرورت کے وقت غیر اللہ سے مدد نہیں مانگتے، اور اب مشکل سے کوئی مذہب ایسا باقی رہا ہو جو توحید کا مدعی نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں پیغمبران بنو اسرائیل کو دیکھیے کہ ایسے ماحول میں جہاں ہر طرف کثرت پرستی کا دور دورہ تھا اور لوگ سمجھتے تھے کہ مورتیوں کے توڑنے یا ان کی توہین سے وبا پھیل جاتی ہے یا کوئی مصیبت نازل ہوجاتی ہے، انہوں نے نہ صرف یہ کہ مورتی پوجنے کی مذمت کی، بلکہ جرأت کے ساتھ توڑ کر ثابت کردیا کہ اس سے کسی کو گزند نہیں پہنچتی۔ غرض یہ کہ مختلف طریقوں سے لوگوں کو خیالی خوفوں سے نجات دلانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عین فرعون کے پُرہیبت دربار میں اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہوئے تمام پجاریوں، کاہنوں اور جادوگروں کا مقابلہ کرکے انہیں پوری شکست دی، اور سحر پرستی کے باطل عقیدے کو کمزور کیا۔ بے شک پیغمبران بنو اسرائیل کو کبھی کبھی ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا، مگر یہ فخر ان کے پیرو بنو اسرائیل کو حاصل ہے کہ انہوں نے پہلی بار توحید کے لاینحل مسئلے کو حل کرکے اسے دنیا کے سامنے اس خوبی اور عمدگی سے پیش کیا کہ بجز وحدہ لاشریک کے کوئی ہستی قابل پرستش نہ رہی، اور اس پاک عقیدے کو منوانے کے لیے اپنی زندگیاں قربان اور نثار کردیں۔ (جاری ہے)