کیامفلسی جرم بن گئی؟

371

حافظ عظمان آصف

اگر روز روشن کی طرف نظر دوڑائیں تو صاف نظر آئے گاکہ ایسا آدمی جو بڑاافسر ہے لمبی لمبی گاڑیوں میں گھومتا ہے ،سنگ مرمر پر چلتا ہے ، نرم نازک بستر پر سوتاہے ۔زیادہ تریہ پسند ہی نہیں کرتے کہ کوئی مالی لحاظ سے کمزور آدمی ا ن کی چوکھٹ پر آئے ۔ یاکوئی دکھوں اوربیماریوںمیں جکڑا،سوالی بن کر آئے ۔انسان اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود انسان نہیں سمجھا جاتا۔
حارث بھی مجرم تھا؟اس جرم میں ملوث تھا کہ اس نے ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی جہاںدکھوں پریشانیوں اور بیماریوں کا بسیرا تھا۔حارث زمانے کی ستم ظریفی سہتا سہتا اب 10 سال کا ہو چکا تھا۔کھیلنے اور پڑھنے کی عمر میں اس کے سر سے باپ کاسایہ بھی اٹھ گیاتواسکول سے اٹھا لیا گیااسے سکول چھوڑنے کا دکھ ہوا۔ کچھ دنوں بعد فاقوں کی وجہ سے اس کی ماں نے اسے شہر مزدوری کرنے کیلئے بھیج دیا اسے کیا معلوم کہ شہر جا کر اس پر کیا بیتے گی اسے کیا معلوم کہ جو ماں جو ممتا مجھے چوم کر میری گالوں پر بوسہ دے کر مجھے روانہ کر رہی ہے اسے واپس صرف لاش ہی ملے گی۔حارث گھر سے روانہ ہوا اور راستے میں ایک امیر آدمی کو مخاطب کرنے لگا اور یہ سوچنے لگا کہ اس آدمی کو اپنی روداد سناں اور یہی امیر آدمی میرے کام آجائے لیکن یہ کیا؟ جونہی حارث نے اس کے ریشمی کپڑوں کو پکڑتے ہوئے اسے مخاطب کیا! ایک زوردار طمانچہ حارث کے منہ پر لگا اور وہ لڑھکتا ہوا زمین پر جاگرا اسے چودھری کے ہاتھوں میں پکڑا چابیوں کا گچھا زخمی کر گیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے آسمان بھی اس لہو رنگ منظر کو دیکھنے کی سکت نہیں رکھتا۔اسے کس جرم میں قتل کیا گیا؟ کس جرم میں اس کا خون کیا گیا اور اس کے اس آسان سوال کا جواب کائنات میں کسی کے پاس نہیں۔

بچے گھر کی رونق ہیں
گھر کی رونق، دل کے اُجالے
جو کچھ بھی ہیں بچے ہیں
ما ں کی ممتا، دل کی مسرت
جو کچھ بھی ہیں، بچے ہیں
باپ کی شفقت، دل کے ارماں
جو کچھ بھی ہیں، بچے ہیں
خوابِ جوانی،دل کی دھرکن
جو کچھ بھی ہیں، بچے ہیں
جاں سے پیارے ، دل کی تمنا
جو کچھ بھی ہیں، بچے ہیں
روشن تارا، دل کا سہارا
جو کچھ بھی ہیں، بچے ہیں
جیون کے نت نئے رنگوں میں
جو کچھ بھی ہیں، بچے ہیں
آج کے بچے کل کی قومیں
جو کچھ بھی ہیں، بچے ہیں

نعیم فاطمہ توفیق