ڈاکٹر وسیم علی برکاتی
صاحب ہم ٹھیرے بھولے بادشاہ مافیا کو معافیا سمجھتے رہے اور دل میں مافیا کی برائی کرنے والوں ہی کو برا سمجھتے رہے کہ لوگ بھی عجیب ہوتے ہیں ہر اچھے کام کرنے والے کی برائی کرنا شروع کریتے ہیں۔ بھلا مافیا (جسے ہم اپنی دانست میں معافی مانگنے والا سمجھتے تھے بھی کوئی بری بات ہے۔ لیکن کسی سیانے نے ہمیں بتایا کہ بھئی مافیا دراصل اسمگلروں کا گروہ ہوتا ہے جو اپنے راستے میں آنے والے ہر ایک کو خرید لیتا ہے یا پھر اس کا صفایا (یعنی قتل) کرا دیتا ہے۔ اس طرح ہم پر یہ انکشاف ہوا کہ دراصل مجرمانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کوئی بھی منظم گروہ جو آپس کی گٹھ جوڑ کر کے اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کردے، راستے سے ہٹا دے یا خرید لے مافیا کہلاتا ہے۔ جون دو ہزار سترہ میں اس لفظ کو ملکی شہرت اس وقت حاصل ہوگئی جب عدالت عظمیٰ کے ایک جج نے سابق وزیر اعظم کو سسلی مافیا کے لقب سے نواز ا۔ اس طرح سسلی مافیا کو بھی شہرت مل گئی۔
اٹلی کے ایک جزیرے سسلی کے منظم جرائم پیشہ گروہ کو وہاں کی آبادی کے لوگ مافیا کہا کرتے تھے۔ جب کہ اس مافیا کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو ’’مین آف آنر‘‘ کہا کرتے تھے۔ اور بھئی آنر کیوں نہ ہو؟ آخر جرم کرنے میں بھی تو محنت کرنا پڑتی ہے اور پھر رسک الگ ہوتا ہے۔ پھر پوچھنے والے کا حق تو بنتا ہی ہے کہ ’’آخر مجھے کیوں نکالا‘‘ میں تو اتنی محنت جاں فشانی سے پیسہ ملک سے باہر منتقل کررہا تھا۔ لندن میں تین سو ارب روپے کا فلیٹ دبئی میں پراپرٹی، راؤنڈ محل بنانا کوئی آسان کام ہے۔ بڑی محنت، جدوجہد اور قانونی رسک لے کر یہ کام کرنا پڑتا ہے۔ پوری پاکستانی قوم اور پاکستانی بچوں کے حلق سے نوالے چھین کر بڑی بڑی جائدادیں بنانے کے لیے کتنی منظم کوششیں کرنا پڑتی ہیں۔ کس طرح ان ہیروں کو تراشنا پڑتا ہے۔ پھر کہیں جاکر قطرے سے گہر بنتا ہے اور پاناما لیکس میں سنہری حرفوں سے نام لکھا جاتا ہے۔ آپ اور ہم ایک دن کا گزارہ کرنے کے لیے ہی روزی کمالیں تو بڑی بات ہے، کوئی اچھا روزگار حاصل کرلیں تو بڑی بات ہے۔ لیکن صاحب یہ اسمبلی مافیا بڑی محنتی لوگ ہیں۔ بڑی محنت سے لوگوں کو بریانی کھلا کر، کیک پر حملے کرواکر یہ ان سے ووٹ حاصل کرلیتے ہیں اور پھر بڑی ہی محنت سے بڑے بڑے ٹھیکے حاصل کرکے یہ قطرہ قطرہ پیسے لگا کر اور باقی بچا کر اپنے لیے بیرون ملک جائدادیں اور علاج معالجے کے پیسے جوڑتے ہیں۔ پھر چاہے بے چارے عوام سڑکوں پر بچے پیدا کریں یا مریں۔ یہ تو اپنی محنت کی کمائی سے آرام وسکون کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ پھر بھی اگر کوئی ان سے پوچھے اتنا آرام و سکون ہمیشہ کے لیے تو نہیں ہوتا ہے آخر مرنا بھی تو ہے۔ اللہ کو منہ بھی تو دکھانا ہے۔ تو یہ کہنا پھر ان کا حق ہے کہ آخر ہمیں کیوں نکالا۔
ہماری اسمبلی مافیا نے عوام کو کچھ دیا ہویا نہ دیا ہو، یہ عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کوئی قانون بنا سکے ہوں یا نہ بنا سکے ہوں لیکن انہوں نے دماغ کی دہی خوب بنائی ہے، اسمبلی کو مچھلی بازار ضرور بنایا ہے۔ ایک دوسرے کو القابات سے ضرور نوازا ہے۔ کسی کو ڈیزل، کسی کو موٹو گینگ اور کسی کو ٹریکٹر ٹرالی کہنے میں پورا ایک اسمبلی کا اجلاس ہوا ہے۔ آخر اس کام میں محنت تو کرنا پڑتی ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا ہے کہ ’’کوئی کارواں سے چھوٹا کوئی بدگماں حرم سے۔۔۔ کہ میر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی۔ اور پھر صاحب جب میر کارواں ہی مافیا ہو تو پھر ادارے کیوں نہ مافیا بنیں۔ آخر اداروں کا کیا قصور ہے۔ تو پھر لیجیے تعلیمی مافیا بھی اپنی جگہ خوب محنت کی کمائی میں لگی ہوئی ہے۔ اسکولوں کی فیس من مانے انداز میں بڑھائی جاتی ہے۔ جس کے لیے صاحب خانہ کو اپنی آمدنی کا پچھتر فی صد خرچ کرنا پڑجاتا ہے۔ اسکول مافیا کی مدد اسمبلی مافیا بڑی ہی ’’مین آف آنر‘‘ والے انداز میں کرتی ہے اور نئے سرکاری اسکول یا تو بناتی ہی نہیںیا ان کا معیار اتنا گرا دیا جاتا ہے کہ لوگ سرکاری اسکول میں بچوں کو پڑھانا بے کار ہی سمجھتے ہیں۔ اور پھر امتحانات کے دور میں نقل مافیا اپنی مثال آپ ہی تو ہے۔ پھر بھی اگر کوئی کسر رہ جاتی ہے تو بورڈ زندہ باد بورڈ مافیا سے فیل بچوں کو اے گریڈ اور اے گریڈ بچوں کو سی گریڈ کرانا اتنا مشکل کام تھوڑی ہے۔ بات چل نکلی ہے تو ہماری پولیس مافیا کہ نام ہی کافی ہے۔ پارکنگ مافیا کے بھی کیا ہی کہنے ہیں۔ گداگر مافیا سڑکوں، چوراہوں پر بھیک مانگنے کے ساتھ ساتھ ڈکیت مافیا کا بھی بھر پور ساتھ دیتے ہیں۔ ان سب مافیاؤں کا مقابلہ معافیہ سے (یعنی پوری پاکستانی قوم) ہے۔ پورا معافیہ گروپ (پاکستانی قوم) ہاتھ جوڑ کر دست بستہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتی ہے اور ان تمام مافیاؤں سے بطور خاص عدلیہ اور اسمبلی کے لوگوں سے معافی مانگتی کہ خدا کے لیے پاکستان پر رحم کریں، پاکستان قوم پر رحم کریں۔ آپ کے اعمال رہ جائیں باقی سب ختم اور فنا ہوجانے والا ہے۔ عوام کے حقوق اور وسائل کے آپ جوابدہ ہیں۔ خدارا! اس معافیا (یعنی پوری پاکستانی قوم) پر رحم کریں تاکہ آپ کی آخرت اچھی ہوجائے۔ سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں۔ محمد ؐ، ابو بکرؓ ، عمرؓ ، عثمانؓ اور علی کرم اللہ وجہ کی زندگیاں فقر اور عظمت کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔ تو پھر کہنے کو کیا رہ جاتا ہے۔