تنہائی کی عبادت اور روحانی صحت

482

فلاڈیلفیا کی تھامس جیفرسن یونیورسٹی میں ماہرین کی ٹیم نے 24 سے 76 سال کے 14 رضاکاروں پر مطالعہ کیا ہے جس کے نتائج ریسرچ جرنل ’ریلیجن، برین اینڈ بیہیویئر‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔ مطالعے کے دوران تمام رضاکاروں کو 7 روزہ ’روحانی تربیتی پروگرام‘ میں شریک کیا گیا جب کہ پروگرام شروع ہونے سے پہلے اور بعد میں ان کے دماغوں میں سیروٹونین اور ڈوپامین نامی مادّوں کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے ڈوپامین کا تعلق جذبات اور اکتسابی (سیکھنے کی) صلاحیتوں سے ہے جب کہ سیروٹونین ہمارے جذبات اور موڈ کو اعتدال میں رکھتا ہے۔ دماغ میں ان ہی دونوں مادّوں کی کمی بیشی ہماری جذباتی کیفیت، موڈ اور سمجھنے سمجھانے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ڈوپامین اور سیروٹونین کی دماغی مقداروں میں کمی بیشی اور ان سے تعلق رکھنے والے خلیوں (ریسیپٹرز) میں سرگرمی کا جائزہ لینے کے لیے جدید آلات (برین اسکیننگ ڈیوائسز) استعمال کیے گئے۔ 7 روزہ روحانی تربیتی پروگرام سے گزارنے کے بعد ان رضاکاروں کے دماغوں کا معاینہ کیا گیا اور ان سے جذباتی کیفیات اور موڈ وغیرہ سے متعلق سوالنامے بھی پُر کروائے گئے۔ واضح رہے کہ دنیا کے تقریباً ہر مذہب میں اعتکاف، مراقبہ اور تنہائی میں عبادات کا تصور موجود ہے جسے نفسیات کی اصطلاح میں ’روحانی پسپائی‘ کہا جاتا ہے جس کے ثابت شدہ اثرات میں خوشگوار موڈ، بہتر جذباتی کیفیت اور خوب تر ذہانت وغیرہ شامل ہیں۔