بھارتی فوج نے مزید4 کشمیریوں کو شہید کردیا،حریت کانفرنس کی شوریٰ طلب

123

سری نگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں میں پلوامہ اور بارہمولہ اضلاع میں مزید4کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق قابض فورسز نے 3 نوجوانوں شوکت احمد ڈار، عرفان احمد اور مظفر احمدکو ضلع پلوامہ کے علاقے پنزگام میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔ فوج نے علاقے میں ایک مکان کو بھی بارودی مواد لگاکر تباہ کر دیا۔ ضلع بارہمولہ میں سوپور کے علاقے ہتھ لانگو میںبھی اسی طرح کی کارروائی کرتے ہوئے فورسز نے ایک اور نوجوان کو شہیدکردیا۔ نوجوانوں کی شہادت پر پنزگام میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ بھارتی فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ فائر کیے اور آنسو گیس کے گولے داغے جس کے بعد مظاہرین اور فورسز اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیںجس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ قابض انتظامیہ نے اونتی پورہ اور اس کے ملحقہ علاقوں اور سوپور قصبے میں انٹر نیٹ سروس معطل کردی۔ انتظامیہ نے جنوبی کشمیر میں مسلسل دوسرے روز بھی ریل سروس معطل رکھی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے حیدر پورہ سرینگر میں حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کے ایک غیرمعمولی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گزشتہ چند روز کے دوران مختلف علاقوں میںبھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوانوں سمیت تمام شہدائے کشمیرکو شاندار خراج عقیدت پیش کیاہے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیری حق خودارادیت کی جمہوری اور سیاسی تحریک چلارہے ہیںلیکن انہیں ان کے جائزسیاسی نظریات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جارہاہے۔ہفتہ شہداء کا آغاز آج جامع مسجد سرینگر اورعوام مجلس عمل کے تمام ضلعی اور تحصیل دفاتر میں تلاوت قرآن پاک اور خصوصی دعائوں سے کیاگیا۔ہفتہ شہداء ممتاز حریت رہنمائوں میرواعظ مولوی محمد فاروق، خواجہ عبدالغنی لون اورحول قتل عام کے شہداء کو ان کے یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا جارہا ہے۔ادھر ضلع شوپیاں کے علاقے ہیندو میںجمعرات کوبھارتی فوج کے ہاتھوں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید ہونے والے ایک شہری کے اہلخانہ نے کہا ہے کہ بھارتی فوج نے ان کے بیٹے کو زیر حراست گولی مارکر شہید کردیا۔ قابض انتظامیہ نے آج جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طورپرنظربند رہنما نور محمد کلوال پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرکے انہیںضلع اسلام آبادکی مٹن جیل میں نظربند کردیا۔ جموںوکشمیر پیپلز لیگ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارتی پولیس کے ہاتھوں پارٹی چیئرمین مختار احمد وازہ کی اسلام آباد قصبے سے گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ قابض حکام نے جموں خطے میںضلع ڈوڈہ کے قصبے بھدرواہ میں مسلسل تیسرے روز بھی کرفیو جاری رکھا۔ قصبے میں کرفیو بدھ کی رات کو ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں ایک مسلم نوجوان نعیم احمد شاہ کے بہیمانہ قتل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہروں کے بعد نافذ کیا گیاتھا۔کشتواڑ مجلس شوریٰ کمیٹی کے چیئرمین فاروق احمد کچلو اور راجوری اورپونچھ کے علماء کرام نے قتل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔