ذاکر موسیٰ کی شہادت پر کشمیر میں چوتھے روز بھی ہڑتال،سری نگر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں

165

سری نگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوںکے ہاتھوں ممتاز مجاہد کمانڈر ذاکر موسیٰ کی شہادت پر جنوبی کشمیر کے اضلاع میں پیر کو مسلسل چوتھے روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کے باعث تمام دکانیں اور کاروباری مراکزبند جبکہ سرکاری دفاتر میں حاضری کم رہی اور سڑکوں پر ٹریفک معطل رہا‘ قابض انتظامیہ نے پوری وادی کشمیر میں تعلیمی ادارے بند کر رکھا ہیں۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے دستوں کو شوپیاں، پلوامہ، کولگام، ترال اور اسلام آباد کے علاقوںمیں بڑے پیمانے پر تعینات کیا گیا تھا۔ جنوبی کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ سروس اورکشمیر بھر میں ٹرین سروس معطل رہی۔ تحریک حریت جموں و کشمیر کا ایک وفد اور حریت رہنما یاسمین راجا سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ نور پورہ ترال میں شہید ذاکر موسیٰ کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کے گھر گئے۔ ذاکر موسیٰ کو بھارتی فوجیوں نے جمعرات کو ضلع پلوامہ کے علاقے ڈاڈسرہ میں ایک جھڑپ کے دوران شہید کیا تھا۔ بھارتی فورسز نے سری نگر کے نواحی علاقوں کرالپورہ اورمانچھوہ میں گھروں اور دکانوں میں توڑ پھوڑ کرکے خوف و دہشت پھیلایا۔ بھارتی فورسزنے سری نگر میں صحافی عادل حسین کے ساتھ بدتمیزی کی اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے سری نگر کے علاقے چھانہ پورہ میں چھاپوں کے دوران کئی نوجوانوں کو گرفتارکیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے سانحہ شوپیان کو10 برس پورے ہونے کے موقع پر جمعرات کو شوپیاں اور اس کے نواحی علاقوں میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق29 مئی2009ء کو شوپیاں قصبے میں وردی میں ملبوس اہلکاروں نے 2 کشمیری خواتین آسیہ اور نیلوفیرکو اغوا اور بے حرمتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا تھا۔ سیدعلی گیلانی نے سری نگر میں جاری ایک بیان میں قوم کی بیٹیوں آسیہ اور نیلوفر کے دوہرے قتل اور آبرو ریزی کے سانحے کو10 برس پورے ہونے کے موقع پر30 مئی کو شوپیان اور اس کے نواحی علاقوںمیں مکمل ہڑتال اور بدھ کو شوپیان تعزیتی مجلس منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ10سال قبل بھارتی قابض افواج نے ایک انسانیت سوز اور شرمناک کارروائی انجام دی تھی جب 2 کشمیری خواتین نیلوفر اورآسیہ کی عصمت کو تار تار کرکے انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کردیا گیا تھا۔ حریت رہنما نے افسوس کا اظہار کیا کہ دونوںخواتینکے قتل اور بے حرمتی میں ملوث وردی پوش اہلکارکھلے عام گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ حریت چیئرمین نے اقوامِ متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشیا واچ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ سانحہ شوپیان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانیکے لییاپنا کردار ادا کریں۔