خیبر پختونخوا حکومت نے فاٹا کو2018 سے پہلے صوبے کا حصہ بنانے کا مطالبہ کردیا

117

پشاور (نمائندہ جسارت/خبرایجنسیاں) پشاورمیں فاٹا اصلاحات کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے جس میں خیبرپختونخوا حکومت نے فاٹا کو 2018ء سے پہلے صوبے کا حصہ بنانے کا مطالبہ کردیا،فاٹا کو صوبے میں شامل کرنے کے لیے آئینی ترمیم کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے اورکہا گیا ہے کہ فاٹا کے لوگوں کو اعلیٰ عدلیہ تک رسائی کا حق دیا جائے، 2017ء میں فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔گورنرہاؤس پشاورمیں فاٹااصلاحات کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنرخیبرپختونخوا انجینئراقبال ظفرجھگڑا نے کہاہے کہ فاٹا میں اصلاحات وہاں کے قبائلی عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق کی جائیں گی اور اس سلسلے میں جامع لائحہ عمل وضع کرنے کے لیے ہرممکن قدم اٹھایا جارہاہے۔ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز،وزیراعلی خیبرپختونخواپرویزخٹک ،وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی( لیفٹیننٹ جنرل) ریٹائرڈ ناصرجنجوعہ، سینئروزراء خیبرپختونخوا عنایت اللہ، اورسکندرخان شیرپاؤ، مشیروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مشتاق غنی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا امجدعلی خان کے علاوہ متعلقہ دیگر حکام بھی موجود تھے۔ مشیر وزیراعظم برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اجلاس کے دوران فاٹا میں اصلاحات کے چیدہ چیدہ امور پر روشنی ڈالتے ہوئے بعض امور کے حوالے سے پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ کے ماتحت عدلیہ کا نظام رائج کرنا اور قبائلی علاقوں میں پہلے مرحلے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔اجلاس کوبتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے افغانستان سے ملحقہ سرحد کومحفوظ بنانے کے لیے ایف سی کا ایک ا سپیشل ونگ بنانے کا فیصلہ کیاہے جبکہ فاٹا میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اوروہاں انفرااسٹرکچر خصوصاًسڑکیں اوراسکولوں وکالج وغیر ہ کی تعمیروترقی کے لیے بھی10سالہ منصوبے پرعمل کیا جائے گا، جس کے لیے فنڈ وفاقی حکومت فراہم کریگی۔اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک ،سینئروزراء عنایت اللہ اورسکندرخان شیرپاؤ نے بھی فاٹا اصلاحات کے عمل کو پوری طرح جامع بنانے کے لیے بعض تجاویز دیں۔