حکومت تیسرے سال بھی بجٹ خسارے کا ہدف حا صل کرنے میں ناکام

142

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی حکومت مسلسل تیسرے سال بھی بجٹ خسارے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام، کفایت شعاری کے دعوے بھی کھوکھلے نکلے، ترقیاتی پروگرام میں بھی 100 ارب کی کٹوتی کی گئی۔ وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے مالی سال 2015-16ء کے بجٹ کی جاری تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے مالی سال 2015-16ء کے دوران بجٹ خسارہ 5 فیصد رکھا گیا تھا مگر یہ 4.6 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے کل اخراجات 10.6 فیصد 5.796 ارب روپے کے مقابلے میں ریونیو جی ڈی پی کا 15 فیصد 4.446 ٹریلین روپے ریکارڈ کیے گئے۔
2015-16ء کے دوران ٹیکس ریونیو جی ڈی پی کا 12.4 فیصد اور نان ٹیکس ریونیو 2.7 فیصد ریکارڈکیا گیا۔ موجودہ اخراجات 4.694 ٹریلین روپے یا جی ڈی پی کا 15.9 فیصد رہا، جس میں سے 1263 ارب روپے مارک اپ پے منٹ، 757 ارب روپے ڈیفنس پر خرچ کیے گئے۔ حکومت نے ڈیولپمنٹ اینڈ لینڈنگ پر 1314 ارب روپے خرچ کیے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران 212 ارب روپے کی (statistical discrepency) ریکارڈ کی گئی۔ 2015-16ء کے دوران ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس ریونیو 3112 ارب روپے اکٹھا کیا گیا جس میں سے1191 ارب روپے براہ راست ٹیکس 1920 ارب روپے غیر بالواستہ ٹیکس کی مد میں جمع کیے گئے۔ 406 ارب روپے کسٹم ڈیوٹی، 1323 ارب روپے، سیل ٹیکس اور190ارب روپے فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی کی مد میں اکھٹے کیے گیے جبکہ گزشتہ سال کے دوران نان ٹیکس ریونیو 703 ارب روپے رہا۔ حکومت نے بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے مقامی اور غیر ملکی ذرائع سے رقم حاصل کی، مقامی ذرائع سے 1186 ارب روپے حاصل کیے گئے، جس میں 193 ارب نان بینک جبکہ 992 ارب روپے بینکوں سے بھی لیے گئے۔ حکومت نے 2015-16ء کے دوران 370 ارب روپے غیر ملکی ذرائع سے بھی حاصل کیے۔