اسلام آباد (آن لائن) اقلیتوں کی جبری تبدیلی مذہب کے حوالے سے سینیٹ کمیٹی نے سندھ سمیت ملک بھر میںجبری مذہب کی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مناسب قانون سازی کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر انوارالحق کاکڑ کی سربراہی میں ہوا، اراکین کمیٹی کے علاوہ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری سمیت وزارت انسانی حقوق کے افسران نے شرکت کی، کمیٹی نے جبری تبدیلی مذہب سے متعلق تمام صوبوں سے جواب طلب کرلیا اور آئندہ
اجلاس میں شادی سے متعلق ولی کی شرط پر علما کی رائے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں رکن کمیٹی کھیل داس نے کہا کہ بین القوامی سطح پر حالات بہت خراب ہیں، اس ملک سے محبت کی وجہ سے ہم اس معاملے پر بات نہیں کرسکتے، بھارت منفی خبر بنا لیتا ہے، سندھ میں قانون بنانے پر کام ہوا لیکن گورنر نے دستخط نہیں کیے۔ ڈاکٹر مکیش کمار نے کہا کہ اگر جبری تبدیلی مذاہب کے کیس چلتے رہے تو ایف اے ٹی ایف سے بھی نہیں نکل سکیں گے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری اس اہم ترین مسئلے پر جواب نہیں دے رہے ہیں، جے یو آئی کے مولانا واسع کو اس کمیٹی میں آنا چاہیے کیونکہ اگر کمیٹی کوئی قدم اٹھالے تو بعد میں یہ لوگ سازشیں کرتے ہیں، پہلے ہی آکر رائے دیں ورنہ کمیٹی فیصلہ کرے گی۔